عالمی طبقاتی جدوجہد کی حکمت عملی اور 2019میں سرمایہ داری کے ردعمل کے خلاف سیاسی لڑائی

3 January 2019

جیسے ہی یہ بیان اپنے تکمیل کو پہنچا انٹرنیشنل کمیٹی آف فورتھ انٹرنیشنل کو اس کے کامریڈ حالیل سیلیک کی بے وقت موت کی اطلاع موصول ہوئی ،جو کینسر کے مرض میں مبتلا تھا ،جسکی وفات 31دسمبر2018کو57سال کی عمر میں ہوئی،حالیل سیلیک ترکی کے سوشلسٹ ایکوئیلیٹی گروپ کا بانی لیڈر تھا جو کہ انٹرنیشنل کمیٹی کا ہمدرد گروپ ہے یہ بیان اسکی یاد سے منسوب کیا جاتا ہے جوکہ ٹراٹسکی ازم کے نظریات کا ایک غیر مصلحت پسندانہ جنگجو انقلابی کامریڈ تھا۔

-1 پچھلے سال کے آغاز میں انٹرنیشنل کمیٹی آف فورتھ انٹرنیشنل نے بیان کیا تھا :’’ یہ نیا سال جو کارل مارکس کی دو صد سالہ سالگرہ کا ہے یہ خصوصیت کا حامل یوں ہے کہ سماجی تناؤ میں شدت اور عالمی سطح پر طبقاتی لڑائی میں شدید اضافہ ہوگا‘‘۔

-2 واقعات نے اس پیش بینی کی تصدیق کی ہے کہ دہائیوں تک طبقاتی جدوجہد کود بایاگیا خاص کر1989میں مشرقی یورپ میں سٹالنسٹ حکومتوں کے ٹوٹنے کے اور چین کی حکومت کے تنیمن سکوائر پر مزدوروں اور نوجوانوں کے قتل عام اور سب سے بڑھ کر کریملن بیوروکریسی کے ہاتھوں دسمبر1991میں سوویت یونین کی تحلیل کے بعد۔۔طبقاتی جدوجہد کی نئی سرگرمی دوبارہ پوری دنیا میں اٹھ رہی ہے بشمول امریکہ کے ہڑتالوں اور احتجاجوں کا سلسلہ ہے جو متواتر پھیل رہا ہے جو زیادہ تر سرکاری سرمایہ دارانہ حمایتی پارٹیوں اور ٹریڈ یونیز کے کنٹرول سے باہر انکے خلاف تھیں۔ سال کا اختتام’’ پیلی واسکٹ‘‘ والوں کے احتجاجوں سے ہوا جس نے ایمونوئل میکرون کی حکومت کو جنجھوڑ کررکھ دیا جو کہ فرانس میں ’’ امیروں کا صدر‘‘ ہے اور تیونس میں شورش پر انجام پذیر ہوا ۔بین الاقوامی سیاست کا سب سے بڑا ایشو محنت کشوں کی سماجی مساوات کے لئے جدوجہد ہے جیسا کہ1995میں انٹرنیشنل کمیٹی آف فورتھ انٹرنیشنل نے اپنے نیشنل سیکشن میں اس تصور کا عملی اظہار سوشلسٹ ایکوئیلیٹی پارٹی کے طور پر کیا تھا ۔

-3 1938 میں چوتھی انٹرنیشنل کی بنیادی دستاویزات میں لیون ٹراٹسکی نے عہد کی اس طرح سے تعریف کی جسکا آغاز پہلی عالمی جنگ کی ہولناک تباہ کاریوں سے ہوا ’’ سرمایہ داری کی اذیت ناک موت‘‘ کے طور پر عالمی صورت حال کو سمیٹتے ہوئے ٹراٹسکی نے لکھا:

بنی نو انسان کی پیدواری طاقتیں جمود کا شکار ہیں پہلے ہی سے نئی ایجادات اور اس میں بہتری عالمی مادی دولت کی سطح کو بڑھانے میں ناکام ہو چکی ہے ،سرمایہ داری کے سماجی عالمی بحران کے نیچے جو دشوار صورتحال ہے اور عوام میں شدید محرومیاں اور بھاری پن دشواریاں ڈالی جارہی ہیں ۔بڑھتی ہوئی بے روزگاری گہرے مالیاتی ریاستی بحران کا باعث بنتی ہے جو پھر مانٹیری نظام کو عدم استحکام سے دوچار کردیتی ہے ،جمہوریت پسندوں اور اس کے ساتھ ہی فاشسٹوں کی حکومتیں ایک دیوالیہ پن سے دوسرے دیوالیہ پن میں لڑکھڑا رہی ہیں۔ (سرمایہ داری کی اذیت ناک موت اور چوتھی انٹرنیشنل کا فریضہ1938)

-4 وہ تمام بڑے اور اہم مسائل جو عالمی محنت کش طبقے کو درپیش تھے جب ٹراٹسکی نے یہ الفاظ لکھے تھے۔ یعنی عالمی معاشی عدم استحکام سامراجی طاقتوں کا تمام ممالک پر تسلط۔۔۔۔۔ پارلیمانی جمہوریت کا ٹوٹ جانا، مہلک اقسام کی فاشسٹ تحریکیں،ریاستوں کے درمیان شدید طرح کی لڑایاں اور قریب الوقوع عالمی جنگ کا خطرہ۔۔۔۔۔ یہ تمام آج بھی شدت سے موجود ہیں۔جس طرح1930میں تمام سرمایہ دار ملکوں کے اشرافیہ ہیجانی کے ساتھ اپنی فوجوں اسلحوں اور ریاستی پولیس سٹیٹ اپریٹس کو بنارہے تھے اور قوم پرستی کو ہوا اور تارکین وطن کیخلاف نفرت ابھاررہے تھے تاکہ سماجی تناؤ کا رخ مورڑتے ہوئے اپنے مفادات کا تحفظ کرسکیں۔اب تک فاشسٹ تحریکوں کی حقیقی سماجی بنیادیں کمزور ہیں جنکے انحصار کا دارو مدار سرمایہ دارانہ پارٹیوں کے سیکشنز اور میڈیا کی سپانسرشپ پر ہے ۔ تاہم یہ خطرہ موجود ہے۔

-5 لیکن ایک دوسری سماجی طاقت سیاسی افق میں داخل ہورہی ہے جسے لمبے عرصے تک دبایا اور مسترد کردیاگیا تھا ۔۔محنت کش طبقہ اپنے طبقاتی مفاد کیلئے خود مختار بنیادوں پر متحرک ہورہا ہے۔فرانس میں بڑی سماجی تحریک امریکہ اور عالمی سطح پر ایک نئے انقلابی پریڈ کی شروعات ہیں1980کی دہائی میں بڑی جدوجہدوں کی شکست اور سوویت یونین کے انہدام کے بعد جو بدحواسی ،مایوسی اور کنفیوژن پیداہوئی تھی اسکی جگہ آخر کار محنت کش طبقے میں دوبارہ لڑنے کی آمادگی کے رحجان نے لے لی ہے۔

-6 وہ تمام مارکسسٹ مخالف نسخے جو درمیانے طبقے کے خوشحال دانشوروں کے سیاسی نمائندوں اور بڑی تعداد میں بورژوا اسٹبلشمینٹ کی جانب سے دئیے گئے تھے انہیں خود اپنی نظریاتی رسوائی کے علاوہ سماجی طور پر بھی بڑے عمل میں بھی بدنامی کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ یہ صرف فو کویاما نہیں تھا جس نے دعویٰ کیا تھا کہ سوویت یونین کا انہدام ’’ تاریخ کے خاتمے‘‘اور سرمایہ دارانہ مارکیٹ کی فتح کی نمائندگی کرتا ہے ان واقعات نے اس جھوٹی سیاسی پیشنگوئی کو ریڈیکل طور پر مسترد کرتے ہوئے تاریخ کے کوڑا دانہ میں پھینکا دیا ہے ۔برطانیہ کے سٹالنسٹ تاریخ دان ایرک ہوزبوں نے دعویٰ کیا تھا کہ 1991کو ’’ مختصر20وی صدی‘‘ کے خاتمے کے طور پر یاد رکھا جائیگا اورمزدور طبقے کے ذریعے سوشلسٹ انقلاب کے امکان کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے ناقابل تصور قراردیا۔

-7 مزیدبراں یہ پیٹی بورژوا فرینک فرٹ سکول والے حوصلہ شکن نظر یہ دان جو محنت کش طبقے کے انقلابی کردار کو ماننے سے انکار کرتے ہیں اور خود غرض پوسٹ ماڈرنسٹ واضح معروضی تاریخی واقعات اور مارکسسٹو ں کے’’ اعلی وضاحتی‘‘ نقطہ نظر کہ محنت کش طبقے کی انقلابی جدوجہد سرمایہ داری کیخلاف کے اہم تاریخی کردار پر یقین نہیں کرتے اور اس کو غیر منطقی طور پر رد کرتے ہیں اور یہ محو ذات پروفیسر حضرات فضول اور بے کار غیر سیاسی دلیلوں کے ساتھ جنس،نسل اور جنسی شناخت کومارکسسٹوں کے نقطہ نظر کے برعکس بنیاد گردانتے ہیں اور بورژوازی کے غلبے کی حکمرانی کا جواز دیتے ہوئے بے نقاب ہو جاتے ہیں۔

-8 انٹرنیشنل کمیٹی آف فورتھ انٹرنیشنل کا تناظر اور تجزیہ درست ثابت ہوا ہے موجودہ دنیا ابھی تک ’’ نہ مکمل20وی صدی‘‘ کے بنیادی تاریخی چیلنج سے نمٹ رہی ہے۔۔۔۔سیاسی طاقت پر محنت کش طبقے کا قبضہ اور سوشلسٹ سماج کی جانب عبوری منزل سے برسرائے پیکرہے۔

عالمی سطح پر سرمایہ دارانہ حکمرانی کا ٹوٹ جانا

-9 سال2019کی شروعات دھماکہ خیز جیو پولیٹکل تضادات،معاشی اور سماجی بحرانوں کے دوران عمل میں آئی ہے۔سوویت یونین کے انہدام کے بعد حکمران طبقوں کے حلقوں میں جو ایک پر مسرت امید پائی جاتی تھی اب باقی نہیں رہی ہے ،عالمی سرمایہ دار طبقے کے موڈ میں حقیقت میں ایک بڑی پریشانی پائی جاتی ہے ۔2018کے اختتام پر اسٹاک ایکسچینج میں شدید ہیجان جو تباہی کا سبب بنا ان سے انکی امیدیں خاک میں مل گئی ہیں جوانہوں نے اس کی دوبارہ بحالی کیلئے بیتاب کوششیں2008کے کریش کے بعد کی تھیں۔ نیوزورچرزی ٹونگ(Neue Zurcher Zeitung)جو کہ سیوئس بنکرز اور بورژوای کے اخبارات کا سب سے چالاک نمائندہ اخبار ہے جس نے دعویٰ کیا ’’حالات پہلے ضروری طور پرخراب ہونگے‘‘ اس فرنٹ پیج کا بیان بہت واضح تھا کہ حکمران طبقے کو ان خراب معاشی حالات کا جواب مزدور طبقے کیخلاف ڈریکونین طریقے سے دینا ہوگا۔

-10 عالمی سرمایہ داری کو جو تاریخی بحران درپیش ہے یہ پورے نظام کا بحران ہے ۔سوویت یونین کے انہدام کے بعد حکمران طبقوں میں خود کو مطمئن کرنے کیلئے فتح کے بعد پروپیگنڈے کا جشن منایاگیا تھا اور یہ بھول گئے تھے کہ1989-91کے واقعات سرمایہ داری نظام کے بدترین معاشی ،سماجی اور سیاسی عدم استحکام کے دوران رونما ہوئے تھے۔1980کے وسط میں امریکہ میں ریگن اور سوویت یونین میں گوربا چوف اپنی ریاستوں میں جس بحران سے دوچار تھے یہ درست تھا کہ یہ سوال کیا جائے جیسا کہ (انٹرنیشنل کمیٹی آف فورتھ انٹرنیشنل نے کیا تھا) کہ کونسا نظام پہلے منہدم ہوگا۔دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکہ کی عالمی بالادسدتی کی پوزیشن پہلے ہی سے زوال پذیری کا تیزی سے شکار تھی علاوہ ازیں معاشی گلو بلائزیشن کے عمل نے تواتر کے ساتھ امریکی سامراج کی بالادستی جسکی بنیادیں قومی ریاست کے سیاسی یونٹ پر استوار تھی کی پوری بنیاد کو انحطاط پذیر کردیا تھا۔

-11 اس کے باوجود کے امریکہ کو اپنے مدمقابل سے سرد جنگ کے دور میں سیاسی فائدہ ’’فتح ‘‘ کے طور پر ہوا جس کی وجہ سے محنت کش طبقے سے اسکی پرانی لیڈر شپ کی غداریوں کے ذریعے ہی سے ممکن ہوا ۔لیکن عالمی سرمایہ داری کا بحران قائم رہا،جسے صرف انٹرنیشنل کمیٹی آف فورتھ انٹرنیشنل نے بھانپ لیا تھا کہ سٹالنسٹ بیورو کریسی کے ہاتھوں چین ،مشرقی یورپی اور سوویت یونین میں سرمایہ داری کی بحالی غلط وقت،یکطرفہ اور مارکسسٹ مخالف پالیسی ہے جو دراصل دوسری عالمی جنگ کے بعد قومی اور سوشل ترتیب دئیے ہوئے پروگرام کے منہدم ہونے کا بہترین اور واضح اظہار ہے ۔

-12 گزشتہ 3دہائیوں سے امریکہ کی حکمران اشرافیہ نے اپنی عالمی بالادستی کو خاص کر بے رحمنانہ اور جارحانہ فوجی طاقت کے بل بوتے پر قائم رکھا جسکا نتیجہ ناکامی اور عالمی نظام میں مزید بحران کا سبب بنا۔ ’’دہشتگردی کیخلاف جنگ‘‘ کو جواز بنا کر افغانستان اور عراق پر غیر قانونی حملوں کے ساتھ ساتھ جمہوری آزادیوں پر حملوں نے امریکی فوجی طاقت کی محدودیت کو بری طرح آشکارا کیا ۔نا ختم ہونیوالے جدید نو آبادیاتی آپریشنز نے نہ صرف بڑے پیمانے پر عوام میں بے چینی پیدا کی بلکہ عالمی سامراجی طاقتوں کے درمیان اور امریکہ کے حکمران طبقوں کے اندر گہرئی تقسیم کو جنم دیا ۔

-13 بڑی سرمایہ دار طاقتوں کے درمیان جیو پولیٹکل بنیادوں پر بین الاقوامی اتحاد جو دوسری عالمی جنگ کے بعد تشکیل پائے تھے ٹوٹ کر بکھر رہے ہیں۔ طویل عرصے کے اتحادی ایک دوسرے کے دشمن بن رہے ہیں اور اپنی فوجی طاقت بنارہے ہیں۔2008کا مالیاتی بحران دس سالوں بعد عالمی معیشت،قومی تضادات اور تجارتی جنگ کی جانب گامزن ہے۔گزشتہ دہائی کی سٹاک مارکیٹ میں بحالی کے باوجود یہ دوبارہ نیچے کی جانب جارہی ہے۔حکمران اشرافیہ نے اس کریش کے بحران کو حل کرنے کیلئے جو پالیسی مرتب کی اور جو اقدامات اٹھائے تھے کوئی بھی مسئلہ حل نہیں ہوسکا اور تضادات جوں کے توں موجود ہیں۔ اپنی دولت میں مزید اضافے کیلئے مالیاتی اشرافیہ نے اس بحران سے نپٹنے کا جو طریقہ اپنایا تھا صرف احتساب کے دن میں تھوڑی تاخیر کردی ہے۔

-14 اس بین الاقوامی ٹوٹ پھوٹ کا مرکز امریکہ ہے جو کہ1865کی خانہ جنگی کے بعد سب سے بڑے سیاسی بحران کے درمیان گھیرا ہوا ہے ٹرمپ کوئی بھوت نہیں ہے جو دوزخ سے ٹپک پڑا بلکہ امریکہ کی گلی سڑی جمہوریت کا ایک مہلک سیاسی اظہار ہے جیسا کہ سوشلسٹ ایکوئیلیٹی پارٹی نے بار بار زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ اور اسکے مخالفین کے درمیان جو لڑائی ہے یہ مختلف رجعتی حکمران طبقوں کی ہے جسکا مرکزی نقطہ یہ ہے کہ امریکہ کی عالمی بالادستی کو کیسے حاصل کیا جائے۔اس لڑائی میں کوئی جمہوری یا ترقی پسند کیمپ نہیں ہے۔ ریپبلیکن اور ڈیموکریٹس دونوں کی جانب سے ٹرمپ کی اس تجویز کے حوالے سے(جسکا ابھی تک اطلاق نہیں ہوا ہے) کہ شام اور افغانستان سے فوجوں کاانخلا کیا جائے پر جس غیظ و غصب کا شدید اظہار منظر عام پر آیا واشنگٹن کے اندر کی لڑائی کے رجعتی کردار کو مزید واضح کرتی ہے ۔

-15 ڈیموکریٹک پارٹی مالیاتی اور بڑے کارپوریٹس فوجی ایجنسیوں اور خارجہ پالیسی کے ان اسٹبلشمینٹ دھڑوں کی اتحادی اورترجمان ہے۔ جو اس بات کے قائل ہیں کہ چین کے ساتھ ناگزیر تصادم سے پہلے روس کو راستے سے ہٹایا جائے جو یورپ یورواشیا اور مشرق وسطیٰ پر انکے کنٹرول کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ گزشتہ دو سالوں سے ڈیموکریٹس نے ٹرمپ کی مخالفت میں نیو میککا رتھیٹ مہم شروع کررکھی ہے اور اپنی توجہ کا مرکز روس کی امریکی سیاست میں ’’ مداخلت ‘‘ کا الزام عائد کررکھا ہے جس سے اس ’’ اختلاف نے جنم لیا ہے‘‘جس کا مقصد ناصرف یہ کہ پیوٹین کی روسی حکومت کیخلاف جارحانہ اقدامات اٹھائے جائیں اور ساتھ ہی امریکہ کے اندر حزب اختلاف کیخلاف ایسے فریم ورک کو تشکیل کیا جاسکے تاکہ جس کے ذریعے اسے ناجائز قراردیتے ہوئے اسے دبایا جاسکے۔ٹرمپ پر حکمران طبقوں کی جانب سے تنقید کرنیوالوں کا طریقہ کار کا محور خفیہ محلاتی سازشوں پر ہے انہیں یہ خوف ہے کہ کہی وہ ایسا نہ کر بیٹھیں جس سے عوامی غیظ و غصب ایک چنگاری کا کام کرتے ہوئے ٹرمپ حکومت کیخلاف بڑی تحریک کا باعث بن جائے ۔

-16 ٹرمپ انتظامیہ اپنے حصے کے حوالے سے اپنی سامراجی حکمت عملی پر گامزن ہے ’’ امریکہ فسٹ‘‘ کے طور پر جسکی بنیاد یہ ہے کہ چین کو اشتعال دیکر اس سے محاذ آرائی کی جائے۔نیویارک ٹائمز نے ٹرمپ کے سابقہ وائٹ ہاؤس کے چیف سٹیٹجسیٹ سٹیوبینین کا حوالہ دیتے ہوئے وضاحت کی ہے کہ ٹرمپ’’ چاہتا ہے کہ (شام اور افغانستان) میں فوجی مہم کو ختم کیا جائے تاکہ وہ بہترطور پر چین کیخلاف معاشی اور جیو پولیٹکل مقابلے کیلئے اپنی قوت کو مرکوز کرے جو اسکی نظر میں امریکہ کیلئے سب سے بڑا بیرونی خطرہ ہے۔یہ تنہائی کی جانب واپسی نہیں ہے مسٹر بینین کہتا ہے 249249بلکہ بین الاقوامی فوجی مہم کی نفاست کے محور سے دوری ہے‘‘

-17 امریکہ کے حکمران طبقوں کے تمام بڑے دھڑے اس بات پرمتفق ہیں کہ عرصہ دراز سے گرتی ہوئی عالمی بالادستی کی ساکھ کو فوجی طاقت کے بل بوتے پر قائم رکھا جائے ۔گزشتہ 25برسوں سے ناختم ہونیوالی علاقائی جنگیں ،جارحیت اور مداخلت جو مشرق وسطی، سینٹرل ایشیاء پر مرکوز تھیں اب ان کی جگہ’’ بڑی طاقتوں‘‘ کے درمیان محاذ آرائی نے لے لی ہے نہ صرف امریکہ چین اور روس کے درمیان بلکہ امریکہ اور یورپ کے درمیان بھی اس میں شدت آئی ہے۔ جس طرح ماضی میں جنگ کیلئے دہشتگردی کیخلاف جنگ بمشول انسانی حقوق کو اس عمل کے دوران جواز بنا کر پیش کیا جاتا تھا اب اسے ترک کرکے واضح طور پر سامراجی مفادات اور عزائم کی بات کی جارہی ہے ۔

-18 یورپی سامراجی طاقتیں خود کو کبھی کبھار امریکی سامراج کے یکطرفہ( یک رخی) اور عدم استحکام کے اقدامات کیخلاف عالمی استحکام کے مورچے کی شبیہ کے طور پر پیش کرتے ہیں ۔لیکن یہ بھی کم بے رحم نہیں ہیں یہ بھی ہر اس اقدام سے گریز نہیں کرتے بشمول جنگ کے جو انکی لوٹ مار اور ان کے سامراجی معاشی اور جیو پولیٹکل مفادات کی امنگوں کی تکمیل کیلئے ضروری ہوں ۔ جرمنی کا حکمران طبقہ دوبارہ مسلح افواج کا قیام عمل میں لارہا ہے چانسلر انجیلا مارکل نے اپنی سال کی اختتامی تقریر میں کہا کہ جرمنی بین الاقوامی سطح پر اپنے مفادات کی غرض سے زیادہ متحرک(فوجی جارحانہ) کردار ادا کرے۔ فرانس میں میکرون مارشل پٹین کو دوبارہ بحال کرنے کی کوششیں کررہا ہے جس نے وی چی کی فاشسٹ حکومت کی قیادت کی تھی جو دوسری عالمی جنگ میں نازی جرمنی کا اتحادی تھا جو ناگزیر طور سے فرانسیسی سامراجی اور داخلی مطلق العنانی کو بڑھانے کا ذریعہ ہے۔

-19 جرمنی میں نیو نازی (اے ایف ڈی) پارٹی اچھی خاصی سیاسی طاقت کے طور پر ابھررہی ہے جسے ریاست کے اندر سے اور دانشوروں کی بڑی حمایت حاصل ہے ۔گزشتہ سال جرمنی کے چیمینٹزاور پولینڈ کے وارسا میں فاشسٹ مظاہرے دیکھنے کو ملتے ہیں، اٹلی میں نیو فاشسٹ لیگا پارٹی مخلوط حکومت کا حصہ ہے ،برازیل میں جیربولسونارو کی حکومت فوجی ڈکٹیٹر شپ کے خاتمے کے بعد سب سے زیادہ دائیں بازو کی حکومت ہے ۔ینیجمین نتین یاہو کی اسرائیل میں انتہائی دائیں بازو کی حکومت کا بین الاقوامی سطح پر انتہائی دائیں بازو کی پارٹیوں اور حکومتوں کے ساتھ بہت قریبی تعلقات استوار ہیں۔یہ اتحاد اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ اسرائیل کے اندر فاشسٹ قوتیں زور پکڑرہی ہیں۔اسرائیل کے اخبار(Haaretz)کے31دسمبر2018کے کالم میں کالم نویس مچل سفرڈ نے انتباہ کیا:

کہ ہمیں حقیقت کا سامنا کرنا چاہئے ہم اس کے گواہ ہیں کہ اسرائیل میں یہودی کیو کلاکس کلان کی تحریک ابھررہی ہے۔ امریکہ کے ہم منصب کی طرح یہودی بیانیہ بھی مہذبی جنون اور علیحدگی کے آلود چشمہ سے پانی پیتا ہے صرف عیسائی تصویر کی جگہ یہودی تصویر جس طرح سفید نسل پرستی کا طریق کار سیاہ فارم کے خلاف تشدد ہے۔ یہودی نسل پرستی کی بنیاد بھی خوف پر قائم ہے جو فلسطینیوں کے خلاف تشدد ہے جو سفید نسل پرستی ہی کے برابر ہے

-20 انتہائی دائیں بازو اور فاشسٹ تحریکوں کا بڑھنا بشمول یہود مخالفت کا احیا محنت کش طبقے کیلئے بے حد خطرے کا باعث ہے ایک ایسے وقت میں جب سرمایہ داری گہرے بحران سے دوچار ہے اور سماجی عدم مساوات عروج پر ہے جہاں عالمی جنگ کی تیاریاں ہورہی ہیں۔حکمران طبقات20ویں صدی کے بدترین جرائم اور سیاسی گندگی کو دوبارہ زندہ کررہے ہیں۔یہ ایک حقیقت ہے کہ فاشزم اسرائیل کے اندرتیزی سے پنپ رہا ہے جہاں غربت کی شرح آرگنائزیشن فارایکنومیک کارپوریشن اینڈ ڈپلویلپمنٹ ممالک کے مقابلے میں بلند ترین سطح پر ہے ۔یہ ایک عملی حقیقت ہے کہ یہ سیاسی مرض وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں انتہائی عدم مساوات کی فضاء اور سرمایہ داری کیخلاف سوشلسٹ تحریک کا ایک سیاسی متبادل کے طور پر فقدان ہو ۔

-21 فاشزم ابھی تک 1930کی طرح بڑی تحریک تک نہیں پہنچا لیکن بڑھتے ہوئے اس خطرے کو نظر انداز کرنا بڑی سیاسی غیر ذمہ داری ہوگئی۔ یہ انتہائی دائیں بازو کی تحریکیں حکمران طبقوں کے دھڑوں اور ریاست کی حمایت سے اس قابل ہونگی کے وہ عوام میں پھیلی ہوئی مایوسی ،عدم مساوات اور غصے کو لفاظی طور پر استعمال کریں۔ان حالات میں انتہائی دائیں بازو اور فاشزم کی پھر زندہ ہونے کی تحریک کیخلاف لڑا جائے جو کہ ایک فوری سیاسی فریضہ ہے۔

فاشزم کے خلاف لڑائی اور تاریخ کے اسباق

-22 تمام تاریخی تجربات اور خاص کر1930کے واقعات ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ فاشزم کیخلاف لڑائی صرف محنت کش طبقے کو خود مختار بنیادوں پر سرمایہ داری کیخلاف متحرک کرتے ہوئے لڑی جاسکتی ہے ۔ہٹلر کے1933میں اقتدار میں آنے کی بڑی وجہ جرمن محنت کشوں کی بڑی پارٹیاں سوشل ڈیموکریٹک پارٹی(ایس ڈی پی) اور کمیونسٹ پارٹی (کے پی ڈی) کی غداریوں کے سبب ہی ممکن ہوا تھا۔

-23 ہٹلر کی کامیابی نے یورپ میں محنت کشوں کی بڑی سرمایہ دار اور فاشسٹ مخالف تحریک کو صدمے سے ہمکنار کیا ،شروع میں پہلے فرانس اورسپین میں محنت کش طبقے کی تحریک آگے بڑھی لیکن پھر اس کا خاتمہ شکست اور بددلی پر ہوا ۔ اسی شکست کا سیاسی آلہ ’’ پاپولر فرنٹ‘‘تھا جس کا (سٹالنسٹ، سوشل ڈیموکریٹ پارٹیوں اور ٹریڈ یونیز) سرمایہ داری کے ساتھ اتحاد تھا۔اس اتحاد کی بنیادیں محنت کش طبقے کی انقلابی آرزوں کے برعکس سرمایہ داری کے مفادات کا واضح دفاع تھا ۔جسے دکھاوئے اور جھوٹے طور پر فاشزم کیخلاف اور جمہوریت کے دفاع کے ڈھونگ کے طور پر پیش کیاگیا۔

-24 آج کل پھر پاپولر فرنٹ کی سیاست کو ’’ لیفٹ پاپولرازم‘‘ کے بینر تلے دوبارہ زندہ کیا جارہا ہے۔۔اس لیفٹ پاپولرازم کا سیاسی نظریہ دان چانڈل موفی ہے۔ جو سریز ا کا یونان میں پی ڈی موس کا سپین اور جین لیوک میلان کو ہن کا فرانس میں گروہے۔ ’’ موفی فارلیفٹ پاپولرازم کے حوالے سے لکھتا ہے کہ ہمیں لیفٹ پاپولسٹ حکمت عملی کی فل الفور ضرورت ہے جسکا مقصد مختلف اقسام کی جمہوری مزاحمتوں کو یکجا کرتے ہوئے زیادہ جمہوری ڈھانچے کی بالادستی کو تعمیر کرتے ہوئے قائم کیا جائے‘‘ میرا موقف یہ ہے کہ ہمیں’’انقلابی‘‘ حوالے سے لبرل جمہوری حکومتوں سے ناطہ نہیں توڑنا چاہئے۔

-25 1936میں ٹراٹسکی نے محنت کش طبقے کی سرمایہ دار طبقے اور اس کی ریاست کی مشین کی ماتحدی کی اہمیت پر اس طرح سے وضاحت کی:

محنت کش طبقے کے لیڈروں کا بورژوازی کے ساتھ سیاسی اتحاد’’ریپبلیک‘‘ کے دفاع کے طور پر پوشیدہ ہے۔ سپین کا تجربہ ہمیں اس دفاع کے مطلق اس حقیقت سے آگاہ کرتا ہے ۔لفظ’’ ریپبلیکن ‘‘ اور جیسا کہ لفظ ’’ڈیموکریٹ‘‘ ایک ڈھونگ ہے جو طبقاتی تضادات کو چھننے کے طور پر اپنایاگیا ۔ بورژوازی اس وقت تک ہی جمہوری ہوتی ہے جب تک ’’ ریپبلیک‘‘ ذاتی ملکیت کا دفاع کرتی ہے۔(سپین کے اسباق1936)

-26 لیفٹ پاپولرازم نہ صرف پاپولرفرنٹ کی1930کی سیاست کو دھرارہی ہے جبکہ پاپولر فرنٹ ازم کی سیاست کے ساتھ مماثلت بھی رکھتی ہے خاص کر سرمایہ داری ماتحدی کے حوالے سے ۔۔۔اس کا محنت کش طبقے سے کوئی بھی تاریخی سیاسی رابطہ نہیں رہاہے ۔یہ خاص طور پر مخالف ہے موفی کے الفاظ میں’’ جو سیاست کو سرمایہ۔۔۔ اور محنت کے تضاد تک محدود رکھتے ہوئے اسے محنت کش طبقے کے مراعات سے منسوب کرتی ہے اور اسے سوشلسٹ انقلاب کا ذریعہ سمجھتی ہے ‘‘ یہ مارکسسٹ سیاست کی تمام بنیادوں کی تردید ہے۔

-27 مارکسزم اور سوشلزم کی مخالفت میں موفی اور جعلی بائیں بازو والوں کی سیاست اس امر پر ضرور دیتی ہے کہ طبقے سے بالاتر قومی تحریک بنائی جائے جس کی نہ کوئی شکل ہو اور نہ کوئی پروگرام واضح ہو ۔جسے موفی واضح طورپر وضاحت کرتا ہے کہ لیفٹ پاپولسٹ تحریک نہ ہی اپنے کو سوشلسٹ کہتی ہے اور نہ ہی وہ سرمایہ داری ریاست کے خلاف جدوجہد کا کہتی ہے ۔یہ سمجھتی ہے کہ انتہائی دائیں بازو کے ساتھ انکا معاہدہ اور اشتراک کا امکان موجود ہے جیسا کہ سریزانے یونان اور پو ڈی موس نے سپین میں کیا ،مزید براں یہ محنت کش طبقے کو سوشلسٹ پروگرام کے حوالے سے جتنے کی لڑائی کی مخالفت کرتے ہیں اسکے برعکس جعلی بائیں بازو کا لیفٹ پاپولزازم اس بات کی وکالت کرتے ہیں کہ دیومالی اور غیر معقول سیاست کو استعمال کا ذریعہ بنایا جائے ۔

-28 لیفٹ پاپولزام کی سیاست جعلی بائیں بازو کی ایک عکاسی ہے جسکی نظریاتی شروعات محنت کش طبقے کے انقلابی کردار سے مایوسی اور انکار پر تھی۔انکے نظریہ دان فرینک فرٹ سکول والے پوسٹ ماڈرنسٹ کا مارکسسٹ اور ٹراٹسکایٹ کے انقلابی طبقاتی جدوجہد کے ’’ اعلیٰ بیانے‘‘ کی معروضی حقیقت سے انکار پر مبنی ہے۔جعلی بائیں بازو کی بنیادیں نسل جنسی تشخص اور’’عوام‘‘ جیسی خصوصیات کے گرد گھومتی ہیں یہ آبادی کے10فیصد درمیانے طبقے کے مراعات یافتہ کی سیاست ہے جسکو بائیں بازو کی لفاظیت اور’’99فیصد کی پارٹی‘‘ کے نعروں کے لبادوں میں لپیٹاگیا ہے ۔

-29 ان کی سیاست کا محور امیر ترین 10فیصد بے پناہ دولت رکھنے والی سماجی پرت اور بڑھتی ہوئی سٹاک مارکیٹ اور ان کے طریقہ زندگی سے جڑا ہوا ہے جنکا محنت کش طبقے کی بڑی اکثریت کے مفادات اور رہن سن سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔دانشوں کے یہ بڑے جتھوں کا طرز عمل عالمی جنگ کی شروعات سے پہلے کی یاد دلاتے ہیں جو تیزی کے ساتھ دائیں بازو کی طرف مڑے اور جنہوں نے سنسرشپ اور سامراج کی حمایت کی۔اس طرح کی عکاسی ان جعلی بائیں بازو والوں میں ملتی ہے جنہوں نے سامراجی فوج کشیوں کی حمایت کی(جیسا کہ شام اور لبیا میں سامراجی مداخلت ’’ انسانی حقوق‘‘ کی ایماء پر مداخلتوں اور روس مخالف شدید جذباتی ہیجان)۔

-30 ان جعلی بائیں بازو والوں کی تنظیمیں جو ریڈیکل جنس اور جنسی شناخت کی سیاست کو پروان چڑھتے ہیں انکا جھگڑا اوپر کی10فیصد پرت کے اندر دولت کی تقسیم اور کارپوشیز،یونیورسٹیوں،ٹریڈ یونینز اور ریاستی مشینری میں اعلیٰ پوزیشنز کی رسائی پر ہے ،جنسی شناخت کی سیاست کے ہتھیاروں میں سے ایک ہتھیار می ٹو(# Me Too )جیسی فاسق رجعتی اور غیر جمہوری تنظیم ہے جسکی عکاسی ہمیں جولین اسنیج پر ظلم اور ستم کی حمایت میں ملتی ہے ۔ یہ صرف اپنا رتبہ اور دولت حاصل نہیں کررہے بلکہ یہ بورژوا سامراجی سیاست کا حامی حصہ ہیں جو ظاہر کرتا ہے کہ خوشحال درمیانے طبقے کی (اوپر90سے99فی صد) بڑی پرت اس سے جڑی ہوئی ہے ۔بے شک اس اصول کے برعکس دوسری ممکن راہ بھی ہوسکتی ہے ۔ سماجی لڑائی اورشدید لڑائی کے ادوار میں ایسے افراد ہوسکتے ہیں جو اپنے طبقے سے الگ ہو کر اور اپنی ذاتی کا میٹمینٹ اور بہادری کے بل بوتے پر انقلابی سوشلسٹ تحریک کی حمایت کریں ۔ لیکن سیاسی حکمت عملی کی بنیاد غیر معمولی افراد کی سرگرمیوں پر تعین نہیں کی جاتی جیسا کہ ’’ اپنے طبقے سے غداری‘‘ اس طرح جب جعلی بازو والے ’’ 99فیصد پارٹی‘‘ کا نعرہ دیتے ہیں وہ طبقے کی شناخت اور معاشی مفادات 90سے99فیصد امیر باشندوں کی آمدنی کے لحاظ سے درجے کو نچلے90فیصد کے تعین پر ضرور دیتے ہوئے سیاسی فراڈ کا ارتکاب کرتے ہیں یہ’’ 99فیصد کی پارٹی‘‘کچھ بھی نہیں ہے ماسوائے اسکے یہ سیاسی تنظیمیں محنت کش طبقے کی بڑی آبادی کو سرمایہ دارانہ اشرافیہ کے معاشی اور سماجی مفادات کے ماتحت قائم رکھ سکیں۔

-31 زیادہ خوشحال درمیانے طبقے کے حلقے دائیں جانب جبکہ درمیانے نچلے طبقے کے حلقے بائیں جانب بڑھ رہے ہیں۔ فرانس میں پیلی واسکٹ والی تحریک نے صرف محنت کش طبقے کی قوتوں کو متوجہ نہیں کیا بلکہ چھوٹے کاروباری اور کسانوں کو بھی متوجہ کیا ۔ظاہر ہے کہ ٹریڈ یونین کی بیوروکریسی اور خوشحال جعلی بائیں بازو کے نمائندوں نے فرانس میں(جیسا کہ ایلن کری وین جو کہ نیو انٹی کیپٹلسٹ پارٹی (این پی اے) جین لیوک ملین کو ہن سبمیسیو فرانس) نے جب پیلی واسکٹ والوں کی تحریک میں درمیانے طبقے کے حلقوں کی موجودگی سے فوری فائدہ اٹھاتے ہوئے اور اسے بدنام کرنے کیلئے ’’فاشسٹ‘‘ کہہ کر چیلانا شروع کردیا۔ لیکن حقیقت ہیں یہ درمیان طبقے کے یہ حلقے محنت کشوں کی جدوجہد کی طرف کھینچتے چلے آئے جو کہ سماجی نابرابری کیخلاف احتجاج کررہے تھے۔ یہ ایک مثبت نشوونما ہے اور بڑی اہم ہے جو ظاہر کرتی ہے کہ بڑھتی ہوئی سماجی تحریک کے اس مرحلے پر درمیانے طبقے کے خاص عناصر سرمایہ داری کیخلاف محنت کش طبقے سے ہم آہنگ ہونے کو تیار ہیں۔

-32 لہٰذا محنت کش طبقے کا یہ فی الفور فریضہ ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اس لڑائی میں اپنی قیادت فراہم کریں ۔ ایک پیچیدہ اور مختلف الاجزا معاشرے میں جہاں پر متنوع پرتوں پرمشتمل کم اور زیادہ آمدنی والی پرتوں کے محنت کش طبقے کی آبادی پھیلی ہوئی ہے۔ اس سماجی طاقت کو یکجا کرنے کی اشد ضرورت ہے جو کہ اہم سیاسی فریضہ ہے اس فریضے کو کامیابی کے ساتھ صرف اس صورت ہمکنار کیا جاسکتا ہے جب محنت کش طبقہ ایک واضح غیر مصلحت پسند اور ناقابل مفاہمت سرمایہ دار مخالف پروگرام سے نظریاتی طور پر مسلح ہو ۔اس بنیاد پر وہ زیادہ آمدنی والے پروفیشنلزم کی پرت جو کہ ترقی یافتہ سرمایہ دار ممالک میں ایک اہم حصے لے طور پر وجود رکھتی ہے بلکہ درمیانے طبقے کی ان پرتوں کو بھی جیت سکتے ہیں جو مالیاتی اشرافیہ کے ہاتھوں پھستی جارہی ہے ۔ ٹراٹسکی نے80سال قبل درمیانے طبقے کی نفسیات کے بارے میں لکھا جب یہ پرت واضح طور پر ’’ غیر محنت کش طبقہ‘‘ کے عنصر کے طور پر معاشرے میں نمایاں تھی جو کہ اس طرح آج نہیں ہے لیکن اب ابھی اس کی بڑی اہم مماثلت ہے :

سیاسی نشوونما آنیوالے وقتوں میں حرکت کے ساتھ تواتر میں بڑھے گی پیٹی بورژوازی فاشزم کی لفاظیت کو صرف اس صورت میں رد کرتے ہوئے اپنی قسمت کو دوسرے راستے پر ڈالے گی ۔۔۔دوسرا راستہ پرولتاری انقلاب کا راستہ ہے ۔۔۔ پیٹی بورژوازی کو اپنی طرف جتنے کیلئے پرولتاریہ کو پہلے اپنے اعتماد کو جیتنا ہوگا اور اس کے لئے اسے اپنی طاقت پر اعتماد کرنا ہوگا اس کے پاس عمل کے لئے ایک واضح پروگرام کا ہونا ضروری ہے اور اسے ہرممکنہ صورتحال میں طاقت حاصل کرنے کیلئے تیار رہنا ہوگا۔(فرانس کدھر کو1934)

انٹرنیشنل کمیٹی آف فورتھ انٹرنیشنل اور عالمی سوشلسٹ انقلاب کی حکمت عملی

-33 محنت کش طبقے کو جس متبادل کا سامنا درپیش ہے وہ ( اصلاح یا انقلاب نہیں ) بلکہ’’انقلاب یا ردانقلاب‘‘ ہے ۔سرمایہ دارانہ نظام کو اذیت ناک موت کے انجام کا حل کیسے ہوگا۔۔۔ یاتو سرمایہ دارانہ طریقوں سے ڈکٹیٹر شپ کے ذریعے ، فاشزم،سامراجی جنگ یا پھر انہدام ہونے کی صورت میں بربریت کے طور پر یا پھر عالمی محنت کش طبقے کی انقلابی جدوجہد کے ذریعے اقتدار پر قبضہ کرتے ہوئے سوشلسٹ سماج کی جانب عبوری کے طور پر۔۔۔سوشلسٹ سماج کی جانب آگے بڑھے جسکا تعین اور انحصارعالمی سطح پر طبقاتی جدوجہد کے نتیجے پر ہوگا تاریخی تناظر جسے سب سے پہلے مارکس اور اینگلس نے کمیونسٹ مینی فیسٹو میں پیش کیا تھا جو آج بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے ’’سرمایہ دار اشرافیہ اور محنت کش طبقے کے درمیان بڑھتا ہوئے تصادم کا خاتمہ ‘‘ ’’ یا تو سماج کی انقلابی بنیادوں پر دوبارا تعمیر کے ذریعے یا پھر ان لڑانے والے طبقوں کی تباہی پر ہوگا‘‘۔

-34 گزشتہ40برس اس حوالے سے امتیازی ہیں کہ محنت کش طبقے کے سماجی اور جمہوری حقوق پر متواتر سے حملے ہوتے رہے ۔ا ن حملوں کی مدد اور معاونت ان تنظیموں نے کی اور خاص کر ٹریڈ یونینز نے ۔۔۔جنکی محنت کشوں نے پہلے کبھی حمایت کی تھی۔

-35 سماجی ردانقلاب کے دہائیوں پر محیط لمبے پریڈ کو اب بڑی مزاحمت کا سامنا ہے ۔گزشتہ سال محنت کش طبقے کی جوجدوجہد اور مزاحمت ابھریں انکے سماجی اور سیاسی رخ میں ایک اہم معروضی تبدیلی کا اشارہ دیتی ہیں۔ جبکہ یہ ابھی تک ابتدائی مرحلے میں داخل ہوئی ہیں۔انکا مزاج جنگجوانہ اور جدوجہد شدت کی جانب تیزی سے بڑھ اورپھیل رہی ہے ۔اس میں شک نہیں کہ ابھی تک بہت سے نظریاتی اور سیاسی مسائل باقی ہیں جس پر قابو پانے کی ضرورت ہے تاکہ موڈ میں واضح تبدیلی سرمایہ داری کیخلاف شکل اختیار کرتے ہوئے سوشلزم کی جانب بڑھے اور محنت کش طبقے کے بڑے حصے اب یہ سمجھتے ہیں کہ براہ راست جدوجہد ناگزیر ہے۔مزید برآں یہ ایک حقیقت ہے کہ2018کے دوران جدو جدوجہد واقع پذیر ہوئیں وہ سرمایہ دار ریاستی سپانسر کی حامی تنظیموں کے دسترست سے باہر رونما ہوئیں جو ہمیں یہ بتاتی ہیں کہ محنت کش طبقے کا ان پر اعتماد باقی نہیں رہاہے ۔جیسا کہ انٹرنیشنل کمیٹی آف فورتھ انٹرنیشنل نے پیش بینی کی تھی ۔کہ سماجی عدم مساوات اور سوشلزم کیلئے لڑائی کی پہلی شکلیں رسوا سرمایہ دار حامی تنظیموں کیخلاف عالمی بغاوت کے اظہار کے طور پر رونما ہونگی۔

-36 یہ ناممکن ہے کہ بالکل درست طور پر واقعات کی رفتار کی پیش بنی کی جائے جو کہ انتہائی پیچیدہ قومی اور اس سے بھی بڑھ کر وسیع بین الاقوامی عوامل کے باہمی عمل کے اثرات سے متاثر ہیں لیکن ایک بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ2019میں محنت کش طبقے میں جنگجوانہ جدوجہد جاری رہے گی۔ تاہم عالمی محنت کش طبقے کی اس سماجی جنگجوانہ جدوجہد کو سوشلزم کی شعوری تحریک میں تبدیل کرنے کا دارومدار محنت کشوں میں مارکسسٹ ٹراٹسکائیٹ پارٹیوں کی تعمیر کے ذریعے ہی ممکن ہے جو کہ انٹرنیشنل کمیٹی آف فورتھ انٹرنیشنل کے قومی شکشنز ہیں۔

-37 2018میں انٹرنیشنل کمیٹی آف فورتھ انٹرنیشنل نے لیون ٹراٹسکی کی فورتھ انٹرنیشنل کی تعمیر کی80سالگرہ منائی تاکہ مارکسزم کی لڑائی کو سٹالن ازم کے روس کے انقلاب سے غداری۔۔۔کیخلاف اور سوشلسٹ انٹرنیشنل ازم کو جاری و ساری رکھنے کے حوالے سے جو لیکچرز اور میٹنگزسری لنکا، متحدہ امریکہ،یورپ ،اسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں منعقدہ کیں جن میں تمام اہم سوالات کے جوابات دئیے گئے وہ کونسے تاریخی اسباب تھے کہ مستقل طور پر فورتھ انٹرنیشنل ثابت قدم رہی ؟سب سے بڑھ کر یہ سبب تھا کہ کہ فورتھ انٹرنیشنل کا عالمی تناظر عہد کے معروضی کردار کی مطابقت پر تشکیل دیاگیا۔

-38 وہ تمام قومی تنظیمیں اور پارٹیاں جنہوں نے دوسری عالمی جنگ کے بعد جو طریقہ کار سیاسی اثررسوخ کو بڑھانے کیلئے اپنا یا وہ ۔۔۔سٹالن ازم اور ماوازم کی مختلف اقسام ،سوشل ڈیموکریسی اور ٹریڈ یونینز کی اصلاح پرستی سے لیکر پیٹی بورژوا تحریک جیسا کہ کاستروازم یا تو انحطات پذیر ہیں یا پھر سرمایہ داری کے آلہ کار میں تبدیل ہو چکے ہیں۔۔۔چین کی حکومت کے حوالے سے اگر دیکھا جائے کہ اس کے باوجود کہ گزشتہ 4 دہائیوں سے بڑی معاشی ترقی ہوئی ہے لیکن وہ پھر بھی تاخیر زدہ سرمایہ دار ممالک کے تاریخی مسائل کو حل نہیں کرسکی۔ چین کا محنت کش طبقہ اور اسکی دیہی آبادی کو حقیقت میں اب تک سامراجی(محصوریت)اور امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے تباہ کن حملے کا شدید خطرہ ہے۔ ماوسٹ کمیونسٹ پارٹی کا سیاسی ڈھانچہ عالمی سرمایہ داری کے لئے ایک بنیادی فصیل کا زریعہ ہے اور اس میں یہ صلاحیت موجود نہیں ہے کہ وہ عالمی سامراجی جنگ کے ایجنڈے کی مخالفت کرتے ہوئے عالمی محنت کش طبقے سے اپیل کرسکے ۔

-39 گزشتہ سال کے دوران چین کے محنت کش طبقے نے سرمایہ داری کی بحالی کے نتیجہ کیخلاف اپنے احتجاجوں کو ہڑتالوں کے ذریعے درج کیا۔ ان ہڑتالوں اور احتجاجوں کو طلباء اور نوجوانوں کی حمایت حاصل ہوئی اس میں شک نہیں کہ چین اور اس حوالے سے ایشیاء کے تمام ممالک بشمول مشرق وسطیٰ افریکا اور لاطینی امریکہ میں محنت کشوں کی تعداد میں گزشتہ4دہائیوں میں بڑا اضافہ ہوا ہے ان ممالک میں سماجی جدوجہد کی بڑھوتی ناگزیر طور پر ٹراٹسکی ازم کے نظریات کی حمایت میں دوباہ دلچسپی سے سرگرم ہوگئی ،آج دنیا میں جو حالات پائے جاتے ہیں وہ پچھلی صدی کے تاریخی تجربات سے کم نہیں ہیں جس نے لیون ٹراٹسکی کی واضح کی ہوئی مسلسل انقلاب کے نظریے کے بنیادی اصولوں کے موقف کو درست ثابت کیا:

سوشلسٹ انقلاب کی تکمیل قومی حدود میں ناقابل تصور ہے جس کی حقیقی بنیادی وجہ یہ کہ بورژوا سماج کا بحران حقیقت میں یہ ہے کہ جو پیداواری قوتیں پیدا کی گئی ہیں وہ اب قومی ریاست کے فریم ورک کے اندر دوبارہ نہیں ڈھل سکتی ۔لہٰذا اس صورتحال میں ایک جانب سامراجی جنگیں اور دوسری طرف بورژوا یونائٹیڈسٹیٹ آف یورپ کا یوٹوپیا کا مفروضہ پیدا ہوتا ہے۔ سوشلسٹ انقلاب کی شروعات قومی دنگل میں ہوتی ہے اور یہ بین الاقوامی طور پر بڑھتا ہے اور اسکی تکمیل عالمی سطح پر ہوتی ہے اس لئے سوشلسٹ انقلاب نئے اور وسیع تر معنوں میں مسلسل انقلاب کے معنی میں ڈھل جاتا ہے ۔اسکی تکمیل آخری نتیجے کے طور پر نئے سماج کی شکل میں عالمی سطح پر پورے کرہ ارض پر ہوتی ہے۔(مسلسل انقلاب کیا ہے؟1931)

-40 اس تناظر کے دفاع کیلئے1953میں انٹرنیشنل کمیٹی آف فورتھ انٹرنیشنل کا قیام عمل میں آیا جب سوشلسٹ ورکز پارٹی کے لیڈر جیمز پی کینن نے ایک’’ کھلا خط‘‘ شائع کیا تھا جو کہ پیبلویڈ ترمیم پسند رحجان کیخلاف تھا جو ٹراٹسکیٹ تحریک کو تباہ اور چوتھی انٹرنیشنل کو سٹالنزم اور بورژوا قوم پرستی میں تحلیل کرنا چاہتے تھے۔ٹراٹسکی کے سیاسی ورثے کے دفاع کیلئے مختلف محاذوں پر ایک بڑی اور وسیع لڑائی لڑی گئی ،نظریہ علمیت کیخلاف جدلیاتی اور تاریخی مادیت کے نظریے کا دفاع اور اس کی مختلف نوح کی موضوی خیال پرستی اور غیر معقولیت پسند برانچوں (جیساکہ فرینکفرٹ سکول اور پوسٹ ماڈرنسٹ) اور سٹالن ازم ،پیبلویڈ ترمیم پسند (اور اسکی موری نویٹ قسم) کے علاوہ مختلف اقسام کی بورژوا قوم پرستی کے خلاف سخت اور غیر مصلحت پسندی کی طویل تاریخی جدوجہد ہے۔انٹرنیشنل کمیٹی آف فورتھ انٹرنیشنل کی تاریخ میں1982سے1986تک کا پریڈ جدوجہد کے حوالے سے سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے جو اس نے برطانیہ کی ورکرز ریولو شنری پارٹی کی قومی موقع پرستی کیخلاف لڑی جو انٹرنیشنل کمیٹی میں سیکشنز کے طور پر ٹراٹسکیزم کی بنیاد پرمتحد ہوئی تھی۔

-41 انٹرنیشنل کمیٹی آف فورتھ انٹرنیشنل کی جدوجہد صرف نظریے اور پروگرام کے دائرے تک محدود نہیں ہے۔ 1975سے1983تک جو تفتیش عمل میں لائی گئی جسے تاریخ میں سیکورٹی اینڈ دی فورتھ انٹرنیشنل کے نام سے جانا جاتا ہے۔ سامراج اور سوویت سٹالنسٹ بیوروکریسی کے ایجنٹوں کی تعیناتی کیخلاف جو عملی مظاہرہ کیا یہ انٹرنیشنل کمیٹی کا نہ جھکنے کا انقلابی عمل تھا ۔یہ تفتیش بپبلو یڈز تنظیموں کے شدید مخالفت کے باوجود عمل میں لائی گئی جنہوں نے کھل کر ٹراٹسکی کے قتل میں ان یجنٹوں کا دفاع کیا جنہوں نے اس قتل میں کلیدی کردار ادا کیا تھا جیسا کہ مارک زبو رواسکی ،سولیا کا لیڈ ویل اور جوزف ہنسن تھے۔ آج تک یہ پیبلویڈز اور ان کے جعلی بائیں بازو کے اتحادی ان ایجنٹوں کا دفاع کررہے ہیں اور سیکورٹی اینڈ فورتھ انٹرنیشنل کے نتائج کو پرزور طریقے سے رد کرتے ہیں لیکن ان میں یہ صلاحیت موجود نہیں ہے کہ وہ تفتیش کے مرتب شدہ نتائج کی کسی بھی حقیقت کو رد کرسکیں۔ گزشتہ5سالوں میں جو ڈاکومینٹس منظر عام پر آئے ہیں ان سے سیکورٹی اینڈ فورتھ انٹرنیشنل کی تفتیش کی سچائی کی مزید تصدیق ہوئی ہے ۔ انٹرنیشنل کمیٹی نے اس نئی انفارمیشن کو نتائج میں شامل کرلیا ہے موجودہ حالات میں ریاست کی جانب سے محنت کش طبقے اور ان کے جمہوری حقوق پر جو شدید حملے کیے جارہے ہیں سیکورٹی اینڈ فورتھ انٹرنیشنل کے نتائج تاریخی لحاظ سے اور موجود عہد میں دوبارہ سیاسی اہمیت حاصل کررہے ہیں۔

-42 واقعات اور حالات اب یہ بتارہے ہیں کہ انٹرنیشنل کمیٹی آف فورتھ انٹرنیشنل نے ٹراٹسکزم کے دفاع میں جو طویل جدوجہد لڑی تھی اسکی تاریخی اور سیاسی افادیت کیا تھی۔نظریاتی اور عملی طور پر انٹرنیشنل کمیٹی آف فورتھ انٹرنیشنل نے یہ ثابت کیا ہے کہ یہ عالمی محنت کش طبقے کی واحد انقلابی سیاسی پارٹی ہے اور حقیقی مارکسزم کی نمائند ہے ۔ انٹرنیشنل کمیٹی آف فورتھ انٹرنیشنل کے بغیر پوری دنیا میں کوئی بھی ایسا سیاسی رحجان موجود نہیں ہے جو معقول انداز میں یہ دعویٰ کرسکے کہ وہ ٹراٹسکی کی بنائی ہوئی1938کی پارٹی کا تسلسل ہو ۔

-43 انٹرنیشنل کمیٹی آف فورتھ انٹرنیشنل نے ان قوتوں کیخلاف مسلسل جدوجہد اور لڑائی لڑی ہے جنہوں نے یہ کوشش کی کہ اکتوبر انقلاب کی تاریخ کو مسخ کرے ااور اس کی جعلسازی کی جائے اور اس نے لیون ٹراٹسکی کی سیاسی وارثت اور دانشور انہ انقلابی کردار کا ان قوتوں کے مقابلے میں ہر لمحے دفاع کیا جو ٹراٹسکی پر بے شمار الزامات کی بوچھاڑ اور اس کے نظریات پر حملہ آور ہوتے رہے ۔2017میں روسی انقلاب کی صد سالہ سالگرہ پر انٹرنیشنل کمیٹی آف فورتھ انٹرنیشنل نے گہرائی سے اور پوری طرح سے اکتوبر انقلاب کے اہم سٹیٹیجک اسباق کا مطالعہ کیا اور ان اسباق کو آج کی موجود ہ سیاسی صورتحال میں پرکھا اور لایا جارہا ہے۔

-44 انٹرنیشنل کمیٹی آف فورتھ انٹرنیشنل محنت کش طبقے کی خود مختار سیاسی لڑائی کی قیادت کررہی ہے اور یہ دلیل دیتی ہے کہ محنت کشوں کی جدوجہد سرمایہ دارانہ بیوروکریٹک حامی تنظیموں کیخلاف ایک بغاوت کے طور پر ابھررہی ہیں لہٰذا اس امر کی ضرورت ہے کہ فیکٹریوں اور کام کی جگہوں میں عام کارکنوں پرمشتمل نئی تنظیموں کا قیام عمل میں لایا جائے جنکا کنٹرول جمہوری بنیادوں پر ہو اور وہ کارپوریٹ حامی تنظیموں سے خود مختار ہوں تاکہ محنت کشوں کے مفادات کا تحفظ کرسکیں۔ 2018کے آخری ہفتوں میں انٹرنیشنل کمیٹی آف فورتھ انٹرنیشنل کی کاوشوں سے امریکہ کے آٹوورکرز اور سری لنکا کے چائے کے باغات کے ورکرز نے بانی اقدامات اٹھاتے ہوئے عام کارکنوں پر مشتمل ایکشن کمیٹیاں بنائی اور روزگار کے دفاع،اجرتوں اور محنت کشوں کے تحفظ کے دفاع اور سرگرمیوں کیلئے پلان تیار کیا ۔یہ کام 2019میں جاری رہے گا اور مزید وسعت اختیار کریگا ۔محنت کشوں کی خود مختار اورغیر مصلحت پسند جدوجہد درمیانے طبقے کے تباہ حال پرتوں کا اعتماد اور حمایت جیت سکتے ہیں ورنہ یہ طبقہ انتہائی دائیں بازو کی لفاظیت میں بہنے جانے کے احکامات بڑھ جائیں گے۔ جیسے جیسے معاشی اور سیاسی بحران کے اثرات محنت کشوں کی اکثریت کو جدوجہد کی جانب دھکیلتے جائیں گے امریکہ اور سری لنکا کی سوشلسٹ ایکویلیٹی پارٹیاں اور دوسرے ممالک میں جہاں وہ سرگرم عمل ہیں وہاں انکا فریضہ ہوگا وہ ان بڑی تحریکوں کو تنظیمی اور سیاسی سمت دیں ۔عام سیاسی ہڑتال کی جانب معروضی پیش رفت محنت کشوں کے تمام دھڑوں کو اکھٹا کرتے ہوئے اقتدار پرقبضہ کیلئے لڑائی کو شعوری انداز میں اور اسکی نشان دھی کرتے ہوئے لڑا جائے جس کی وضاحت انٹرنیشنل کمیٹی اور اس کے سیکشنز کی زمہ داری ہے ۔

-45 ڈیٹریٹ میں9دسمبر کو عام کارکنوں پر مشتمل ایکشن کمیٹی کی کانفرنس میں سوشلسٹ ایکویلیٹی پارٹی کے نمائندوں نے دو اہم سوالات پوچھے۔ 1۔کیا ورلڈ سوشلسٹ ویب سائٹ ایک آلائے کے طور پر برسرپیکار محنت کشوں کی جدوجہد کو دوسرے محنت کشوں کے حصوں کے ساتھ سہولت فراہم کرنے میں مددگار ہے ؟ 2۔کیا ورلڈ سوشلسٹ ویب سائٹ محنت کشوں کو بین الاقوامی سطح پر ہم آہنگی اور منظم کرنے میں مددگارہے؟ ان دونوں سوالوں کا جواب یک آواز ہو کر سب نے ہاں میں دیا۔ورلڈ سوشلسٹ ویب سائٹ انٹرنیشنل کمیٹی آف فورتھ انٹرنیشنل کی انٹرنیٹ کی پبلکیشن ہے جو عالمی سطح پر محنت کشوں کی بڑھتی ہوئی سرکشی اور لڑنے والی تحریک کو تاریخی آگہی سیاسی تجزیے اور انکی آواز،بحث ومباحثوں کو پلیٹ فارم مہیا کرتی ہے ۔ورلڈ سوشلسٹ ویب سائٹ ہر اول دستے کے طور پر انٹرنیٹ پر سنسرشپ کے خلاف اپنی لڑائی جاری رکھے گی ۔اور ویکی لیکس کے بانی جولین اسنیچ اور دوسرے صحافیوں ، آرٹسٹوں اور حکمران طبقے پر اصولی تنقید کرنیوالوں پر ظلم و ستم کیخلاف انکا دفاع کرتی رہے گی ۔

-46 2019میں انٹرنیشنل کمیٹی آف فورتھ انٹرنیشنل کا سب سے اہم فریضہ ہے کہ وہ کام کو وسعت دیتے ہوئے منظم انداز میں بڑھاتے جائے۔پہلے سے کہیں زیادہ انٹرنیشنل کمیٹی کے نظریاتی اور سیاسی کام کی محنت کش طبقے کی معروضی تحریک میں جڑت بڑھی ہے ۔ اسکی باصلاحیت عملی انقلابی سرگرمیوں کی وجہ سے اور ایک اہم عنصر کے طور پر انقلابی طبقاتی جدوجہد نے نشوونما پائی ہے۔ انٹرنیشنل کمیٹی آف فورتھ انٹرنیشنل کے نظریاتی اور تاریخی مطلع تجزئے انتہائی اہم سیاسی اور عملی اہمیت اختیار کرتے جارہے ہیں۔انٹرنیشنل کمیٹی آف فورتھ انٹرنیشنل کو نئی صورتحال کا چیلنج ہر حال میں کامیابی سے نبھاناہے۔ اس کے عالمی صورتحال کے تجزئے اور سوشلسٹ ایکویلیٹی پارٹی سے منسلک نوجوانوں کی تحریک انٹرنیشنل یوتھ فار سوشل ایکیویلیٹی(IYSSE)کے سیاسی کام کی جڑت کے ساتھ سرگرمیاں۔۔۔انٹرنیشنل کمیٹی آف فورتھ انٹرنیشنل کو لازمی طورپر عالمی محنت کش طبقے کو اس کے مقاصدکی رسائی کیلئے اور اسکی نشوونما کیلئے جس ضروری شعور کی ضرورت ہے اسے فراہم کرنا ہے اور اسکی رہنمائی کرتے ہوئے سوشلزم کی لڑائی کو آگے بڑھانا ہے ۔

-47 جیسے محنت کش طبقہ فرسودہ رجعتی تنظیموں ٹریڈ یونینز اور انکے شریک جرم جعلی بائیں بازو سے علیحدہ ہو کر خود مختار بنیادوں پر منظم ہورہا ہے۔ ان میں یہ توانائی موجود ہے کہ ایک انٹرنیشنل انقلابی مارکسسٹ شعور کو تیزی سے اجاگر کرتے ہوئے اسے عالمی سطح پر بڑھوتی دینگے ۔ انٹرنیشنل کمیٹی آف فورتھ انٹرنیشنل ٹراٹسکی ازم کے سائنٹیفکٹ پروگرام اور اس کے ورثے کی بنیاد پر2019میں بڑی پرامیدی اور اعتماد کے ساتھ داخل ہورہی ہے جو کہ عالمی محنت کش طبقے کی انقلابی صلاحیتوں اور21وی صدی کا مارکسزم ہے۔

جیمز کوگن، جوزف کیشور اور ڈیوڈنارتھ