وینز ویلا کا تیل اور امریکہ کی پشت پناہی میں کودیتا کی جیو پو لیٹکس

گیبریل بلیک
31 January 2019

امریکہ نے تو اتر سے وینزویلا میں حکومتی تبدیلی کے آپریشن کو تیز کردیا ہے تاکہ وینز ویلا کے صدر نکولس مادورو کو کودیتا کے ذریعے اور اس پر کڑی معاشی پابندیاں عائد کرتے ہوئے ہٹا دیا جائے یہ اقدام ایک جنگ کے مترادف ہے اور اسے مسلسل فوجی مداخلت کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔

جس کا مقصد امریکہ کہ پیٹھو جوہان گوائیڈ وکو اقتدار میں لانا ہے جس نے دسمبر میں امریکہ کا دورہ کیا تھا اور ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ اس آپریشن کے مطلق بات چیت کی تھی۔

گوائیڈودائیں بازو ولن ٹیڈ پاپولر پارٹی کا سیاسی کارکن جیسے یو ایس ایڈز اور نیشنل اینڈ ڈومینٹ فار ڈیموکریسی(این ڈی ایس) کی مالی معاونت اور ڈیموکریٹس اور ریپبلیکن دونوں کی حمایت حاصل ہے اسے میڈیا میں فری ڈم فائٹرکے اور مادورو کی ڈکیٹیٹر اور شیطانی طاقت کے خلاف جمہوریت کے چمپئن کے طور پر پیش کیا جارہا ہے ۔گزشتہ اتوار کو سیکرٹری آف سٹیٹ مائیک پمپیو نے اقوام متحدہ میں اپنی تقریر میں دوسری حکومتوں کو انتباہ کرتے ہوئے کہاکہ ’’ یا تم آزادی کی قوتوں کے ساتھ کھڑے ہو یا پھر تم مادورو کے جرائم اور تشدد میں اس کے شریک اتحادی ہو‘‘ ۔

واشنگٹن کی اس فرسودہ اور منافقت سے بھری آزادی اور جمہوریت کی التجا کے پیچھے جو مقصد کارفرما ہے وہ کودیتا کا ہے جو جلد ہی خانہ جنگی اور مسلح مداخلت میں تبدیل ہو جائیگا۔

وینز ویلا میں دنیا کے تصدیق شدہ سب سے زیادہ تیل کے ذخائر پائے جاتے ہیں جو کہ ۔۔۔سعودی عرب سے کئی اربوں بیرل زیادہ مقدار میں موجود ہیں ۔یہ قیمتی انعام صرف کمائی کا ذریعہ نہیں ہے بلکہ اسکے برعکس یہ جیو پولٹیکل پٹی جس پر امریکہ اور چین کے درمیان تنازعہ بڑھ رہا ہے ۔خاص کر اس نقطہ نظر سے کہ یہ خوف عام ہے کہ تیل کی مارکیٹ جلد ہی کسنا شروع ہوجائیگی ۔

سوموار کو ٹرمپ انتظامیہ کوششیں کی کہ مادورو کی حکومت کو تیل کی آمدنی کی ادائیگی اور وینزویلا کی حکومتی تیل کی کمپنی پیٹرولس ڈی وینز ویلا کو تمام ادائیگیاں روک دے۔

واشنگٹن کے اس مقصد اور منصوبے کا اظہار بڑے بے شرم انداز میں نیشنل سیکورٹی کے مشیر جان بولٹن نے فاکس نیوز کو بروز سوموار انٹرویو دیتے ہوئے کہاکہ ایک کامیاب کودیتا کا ’’ امریکہ کی معیشت کیلئے بڑا فرق ثابت ہوگا اگر امریکہ کی تیل کی کمپنیاں وینز ویلا میں سرمایہ کاری کرتے ہوئے وینز ویلا کی تیل کی صلاحیت کو بڑھائیں گئی‘‘

ایسا کرنے کیلئے وینز ویلا کی تیل کی صنعت کی قومی ملکیت کو ختم کرنا ہوگا جسے 4دہائیوں پہلے قومیاتے ہوئے قومی ملکیت میں لیاگیا تھا۔۔۔۔ بہت پہلے جب نکولس مادورو اور اس کے پیشرو ہوگو شاویز ابھی تک سیاسی منظر نامے پر نمودار نہیں ہوئے تھے۔۔ امریکی سامراج اور بڑے تیل کے پلان میں اس ملک کو کھلے طور پر نیم نو آباد یاتی کا لونی میں تبدیل کرنا ہے ۔

امریکہ کا وینز ویلا کے تیل کی آمدنی کی روانی کا گلا گھونٹنے کو کچھ معاشی تجزیہ نگار اسے’’ نیو کلےئر آپشن‘‘ کہہ رہے ہیں کہ اس عمل سے وینز ویلا کی صنعت منہدم ہوتے ہوئے کئی سالوں تک پیچھے چلی جائیگی ۔خام تیل کی پیداوار 3ملین بیرلز روزانہ (ایم بی /ڈی)سے گر کر گزشتہ سال1.5ملین بیرلز یومیہ تک پہنچا گئی ہے اور کچھ پیش مبنی یہ کررہے ہیں کہ یہ800,000بیرل یومیہ تک چلی جائیگی۔

وینز ویلا کی زیادہ بھاری خام تیل کے ذخائر اور رینکو بیلٹ میں پائے جاتے ہیں جبکہ یہ مقدار میں زیادہ ہیں لیکن ایسے قابل استعمال بنانا انتہائی مہنگا پڑتا ہے ۔جس طرح کینڈا کی تارکول ریت جو صرف اسی صورت منافع بخش بن سکتی ہے جب اسے نسبتاً کم قیمت پر نکاس کیا جائے۔ اس ایکسٹرا بھاری تیل یا پھرتا کول ریت کو قابل استعمال خام تیل بنانے کیلئے وینز ویلا کو ضروری طور پر بڑی مقدار میں لائٹ تیل کو امریکہ سے درآمد کرنا ہوگا جو کہ خام تیل کے ساتھ اسے ملاتے ہوئے ریفائزی پروسس کے لئے ضروری ہے ۔

ان موجودہ بنیادی جیوپولٹیکل حقیقتوں کا مادورو کی قومی بورژوا حکومت کو سامنا ہے جو اس کیلئے شدید مشکلات اور بحران کا سبب ہونگی ۔جیسا کہ اس سے پہلے شاویز کو ہوا تھا مادورو بھی اس تیل کی آمدنی پر انحصار کرتا ہے جس سے وہ محدود سماجی اصلاحات کے پروگرام کو چلارہا ہے جیسے وہ فریبی طور پر اپنے کو ’’ بولیوارین سوشلزم‘‘ کاحامی ظاہر کرتا ہے جبکہ وہ دراصل پراپرٹی اور منافع کے ساتھ اندرونی اور بیرونی سرمائے کا محافظ اور ضامن ہے ۔

وینز ویلا کی طرح دوسرے تیل پید اکرنیوالے ممالک اس جنس پر حد سے زیادہ انحصار کے باعث شدید متاثر ہوئے ہیں جب کوئی بھی ملک بھاری طور پر برآمدات والی قیمتی اشیاء پر انحصار کرتا ہے ۔فارن کرنسی کی آمد افراط زر کا ذریعہ بنتی ہے اور دوسرے معیشت کے شعبوں کے برعکس اس نکالے جانیوالی اشیاء(جیسا کہ تیل) کو ترجیح دیتے ہوئے اسی شعبے میں سرمایہ کاری کی جاتی ہے جس کا ناگزیر نتیجہ معیشت کے دوسرے شعبوں میں سستی روی کا عمل پیدا ہوتاہے جیسا کہ صنعت اور مینو فیکچرینگ کے شعبے وغیرہ پھر جب تک کوئی ریڈیکل اقدام اٹھا کر اس پروسس کو نہیں روکاجاتا یہ عمل جاری رہتا ہے ۔

وینز ویلا اس عمل کی وجہ سے اس طرح کے چکر کھاتے معاشی بحرانوں سے 1920سے اب تک کئی بار گزرا ہے اس مرتبہ وینزویلا کی حکومت کے پاس سرمائے کی قلت اور تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کی وجہ سے حکومت تیل کی بھاری صنعت میں مہنگی اور ضروری سرمایہ کاری نہیں کرسکی جسکے باعث پیداوار کو مستحکم رکھا جاسکتا ۔

طویل حکومتی تبدیلی کے آپریشن کے تناظر میں وینز ویلا کا خام تیل ،تیل کی عالمی منڈی سے عارضی طور پر خارج کردیا جائیگا۔ جو کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کیلئے پریشانی کا سبب اس لئے نہیں ہیں کیونکہ امریکہ میں خام تیل کی پیداوار اور ساتھ ہی ٹایٹ تیل اور شیل گیس کی بڑھتی ہوئی پیداوار اس تیل کی کمی کو پورا کرسکے گی ۔ البتہ وینز ویلا کے تیل کے ذخائر امریکہ کی معاشی اور جیو پولٹیکل استحکام کیلئے دو وجوہات کے حوالوں سے اہم ہیں۔

پہلی وجہ یہ ہے کہ وینز ویلا نے حال ہی میں چین کی ریاست اور چین کی تیل کی کمپنیوں سے تیزی کے ساتھ اشتراک کے عمل کو بڑھایا ہے ۔وینز ویلا چین کا20بلین ڈالر کا مقروض ہے۔ اور وہ چین کا بڑا قرض خواہ بن گیا ہے ۔ اور اس نے تیل کی برآمد کے طریقے کو استعمال کرتے ہوئے پہلے ہی چین کو40بلین ڈالر کا قرض واپس کردیا ہے ۔ چین کی پیٹرولیم کی کمپنیوں نے وینز ویلا کے بہت سے منصوبوں میں بڑے شےئرز لے رکھے ہیں تاکہ ایک جانب چین میں تیل بھیجا جائے اور دوسری جانب صنعت کو گرنے سے بچایا جائے۔

چین کی تیل کی پیداوار 3.5ملین بیرل یومیہ ہے جبکہ اسے تقریباً 15ملین بیرل یومیہ کی ضرورت ہے امریکہ کی طرح چین کے پاس شیل کے پیٹرولیم کے ذخائر نہیں ہیں۔تیل کی یہ کمی چین کے حکمرانوں کو مجبور کرتی ہے کہ وہ شدت کے ساتھ تیل کو باہر سے حاصل کریں دوسری جانب امریکہ اس تیل کی پٹی کی سٹیٹیجک اہمیت سے بخوبی واقف ہے یا تو اتحاد کے ذریعے یا پھر برائے راست ملکیت کے طور پر۔۔۔۔۔دنیا کی بڑی تیل کے فیلڈز جنگ کی صورت میں چین کی معیشت کو مفلوج کردینگے اس وجہ سے تیل سے مالا مال ممالک جیسا کہ وینزویلا اور قذافی کا لیبیاجن دونوں نے چین اور روس کی تیل کی معیشت میں سرمایہ کاری کو خوش آمدید کہا وہ امریکہ کے بڑے نشانے پر ہیں ۔

دوسری وجہ یہ ہے کہ وینز ویلا کے تیل کی مخصوص اہمیت یہ ہے کہ اگر چہ یہ مہنگا ہے لیکن اس کمی کو پور ا کرتا ہے جو کہ طلب اور رسد میں اس دہائی کے آخر میں ابھر کر سامنے آئی ۔انٹرنیشنل ایجنسی سمجھتی ہے کہ دنیا کو تقریباً سالانہ640بلین ڈالرز خرچ کرتے ہوئے پیداوار کومناسب لیول پر رکھا جاسکتا ہے جبکہ تیل کی صنعت میں یہ سرمایہ کاری430بلین سے کم سطح پر ہے ۔

امریکہ میں اس وقت ہائیڈرا لک کو توڑنے یا فرینکینگ (چٹانوں کے نیچے سے تیل اور گیس نکالنے کا طریقہ)کے ذریعے اس قابل ہے کہ وہ اسے مارکیٹ میں سپلائی کرسکے۔لیکن اگر آنیوالے سالوں میں بڑی معاشی کساوبازاری آتی ہے نئے تیل کیلئے جیسا کہ وینز ویلا کا ہے اس کیلئے بڑی سرمایہ کاری کی ضرورت ہوگی تاکہ اس گیپ کو پورا کیا جاسکے۔ کیا امریکہ کی پشت پناہی میں کودیتا کی کامیابی ایکزون جیسی کمپنیوں جو کہ تاریخی طور پر وینز ویلا کی تیل کے وسائل کو کنٹرول کرتی رہی ہیں انہیں سرمایہ کاری کیلئے دوبارہ لایا جائیگا ۔

یہ کوئی نئی بات نہیں ہے کہ امریکہ کی خواہش ہے کہ وینز ویلا کے تیل کو روکا جائے۔1970کی تیل کو قومیانے سے پہلے بہت سی یورپی کمپنیاں وینز ویلا کی تیل کی دولت پر غالب تھیں۔ رایل ڈچ شیل( اینگلو۔ڈچ منصوبہ)کی شروعات سے20وی صدی کے اوئل میں اسکے خاتمے تک اور ماڈرن دور کے ایکزون موبیل( سٹینڈرڈ آئل ،ایکزون اور موبیل) وینز ویلا کے تیل کے قومیانے سے پہلے ان پر بیرونی سرمائے کا غلبہ تھا۔

1970کے اوئل میں وینز ویلا امریکہ کا قریبی اتحادی تھا۔1976میں کارلوس اینڈرس پیپرز نے ملک کے تیل کو قومیا لیا۔ پیٹرولیوز ڈی وینز ویلا(PDVSA)کو ریاستی تیل کی کمپنی بنایاگیا وینز ویلا کے تیل کی قومیانے سے مغربی تیل کی کمپنیوں کو اوپیک ممبرز کی نسبت سے زیادہ نرم شرائط سے نوازاگیا۔

1980کے آخر اور1990کے شروع میں دوسری بڑی معاشی گرواٹ آئی جس کی وجہ پھر زیادہ انحصار تیل پر تھا جس سے معاشی مسائل نے جنم لیا اس معاشی بحران اور اسٹریٹی اقدامات جیسے کار کازو کے نام سے جانا جاتا ہے کہ بطن سے بغاوت پیدا ہوئی جس میں وینز ویلا کے سابقہ صدر ہوگو شاویز قومی لیڈر کے طور پر ابھر کر سامنے آئے جس نے1992میں ایک ناکام کودیتا کی قیادت کی اور پھر بعد میں1998میں صدر منتخب ہوئے۔

شاویز نے سماجی اصلاحات کے پروگرام کو آگے بڑھایا اور معیار زندگی کو بہتر بنایا تیل کی آمدنی کی رقم سے محنت کش طبقے کے حصوں کو فوکس کیاگیا ۔تاہم شاویز جو ایک بورژوا قوم پرست لیڈر کے سوا اور کچھ نہیں تھا وہ کسی بھی طورپر محنت کش طبقے کی نمائندگی نہیں کرسکتا تھا اور نہ ہی وہ جدوجہد کو آگے بڑھاتے ہوئے پیداوار اور سماج پر کنٹرول حاصل کرسکتا تھا لیکن اس کے برعکس وہ کاروباری پرت کی نمائندگی کرتا رہا جو سمجھتے تھے کے بیرونی سرمائے سے زیادہ خود مختاری حاصل کرتے ہوئے اور تیل کی آمدن کو طبقاتی تناؤ میں کمی کے طورپر استعمال کرتے ہوئے انکے حالات بہتر ہوسکتے ہیں۔

آخر میں جیسا کہ1990کے معاشی بحران میں قومی معیشتوں جنکا انحصار وسائل کے نکالنے پر تھا سرمائے کی عالمی طاقتوں نے انکے عارضی توازن میں خلل پیدا کردیا۔ شاویز کی2013کے سالوں میں موت تک معاشی حالات خراب تر ہوتے گئے اور وینز ویلا کی حکومت کوبدحواس محنت کشوں کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔

امریکی سامراج اس بحران کو اپنے مفادات کیلئے استعمال کررہا ہے ’’آزادی اور جمہوریت‘‘ کے بیز تلے وہ سامراجی مداخلت کے ذریعے ڈکٹیٹر شپ کو مسلط کرتے ہوئے محنت کش طبقے کو دبانے اور وینز ویلا کی معیشت پربڑے تیل کی (کمپنیوں )اور وال سٹریٹ کے مکمل کنٹرول کو یقینی بنانا ہے۔