سوشلسٹ انقلاب کے عشرے کا آغاز

3 January 2020

نئے سال کی آمد تیزتر ہوتی طبقاتی جدوجہد اور عالمی سوشلسٹ انقلاب کے آغاز کو ظاہر کرتی ہے۔

مستقبل میں مؤرخ جب اکیسویں صدی کی تبدیلیوں کے بارے میں لکھے گا تو ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لینے والے اس طوفان کی ان تمام واضح نشانیوں کو گنوائے گا جو 2020 کے آغاز پر موجود تھیں۔ یہ سکالر جنہیں حقائق، دستاویزات اور سوشل میڈیا پر موجود تحریروں اور ڈیجیٹل معلومات کے دیگر ذرائع پر دسترس ہوگی 010 2 کے عشرے کو سرمایہ داری کے ناقابل حل معاشی،سماجی اور سیاسی بحران کا عہد قرار دینگے۔

وہ اس بات کا بلخصوص تذکرہ کرینگے کہ اس صدی کے تیسرے عشرے کے آغاز تک تاریخ کا سفر اس مقام تک آپہنچا تھا جس کی کارل مارکس نے نظریاتی سطح پر پیش بینی کی تھی۔ '' چونکہ ترقی کے ایک خاص مرحلے پرسماج کی مادی پیداواری قوتوں کا اسوقت کے پیداواری رشتوں کے ساتھ تصادم ہوجاتاہے۔ پیداواری قوتوں کی ترقی کی مختلف صورتوں کی بدولت ہی ان کے درمیان موجود پیداواری رشتے ان کے پاوں کی بیڑیاں بن جاتی ہیں۔ پھر سماجی تبدیلیوں کا ایک زمانہ آتا ہے۔ معاشی بنیادوں کی تبدیلی کے ساتھ ان پر قائم سماج کا دیو ہیکل ڈھانچہ بھی تیزی سے بدل جاتا ہے۔

پچھلے ایک عشرے کی بنیادی اہم خصوصیات کیا تھیں؟

مسلسل جنگیں اور ایٹمی لڑائی کاخطرہ:

پچھلی ایک عشرے کا کوئی ایک دن بھی ایسا نہیں گزرا جب امریکہ کسی نہ کسی لڑائی میں مصروف نہ ہو، عراق وافغانستان میں عسکری کاروائیاں تو جاری ہی تھیں۔ شام، لبیا، یمن اور یوکرین میں بھی نئے محاذ کھولے گئے۔ اور اب 2020 کے آغاز میں، ایرانی میجر جنرل قاسم سلیمانی کا قتل، جس کے احکامات صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دیئے، نے امریکہ اور ایران کے درمیان ایک مکمل جنگ کا خطرہ پیدا کر دیا ہے، جس کے تباہ کن نتائج کا کسی کو اندازہ نہیں۔ امریکی صدر کا ایک اور ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ہونا، اور پھر قتل و غارت کی بڑی بڑی دھمکیاں دینا یہ ظاہرکرتا ہے کہ حکمران اشرافیہ کس حد تک پاگل پن کا شکار ہو چکی ہے۔

اسکے علاوہ2008ء میں ایک نئے سٹریٹجک ڈاکٹرئین کا اختیار کرنا امریکہ کی فوجی کاروائیوں میں بہت زیادہ اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔ اس نئی حکمت عملی کا اعلان کرتے ہوئے اس وقت کے وزیر دفاع جیمز میٹس نے کہا تھا: '' جن دہشت گردوں کے خلاف ہم آج لڑ رہے ہیں انکے خلاف تو ہماری جنگ جاری رہے گی مگراب بڑی طاقتوں کا مقابلہ نہ کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ امریکہ کی قومی سلامتی کا فوکس ہوگی“ اس نئے نظریے نے '' دہشت گردی کے خلاف جنگ '' کے اصل مقصد کو بے نقاب کر دیاہے جو صرف امریکی سامراج کے قائدانہ کردار کو بر قرار رکھنے کی کوشش ہے۔

امریکہ اپنے اس کردار کو قائم رکھنے پر بضد ہے خوا جان ومال کی بربادی کی صورت اسکی کتنی ہی قیمت کیوں نہ ادا کرنی پڑے۔ جیسا کہ انٹرنیشنل انسٹیٹوٹ فارسٹریٹجک سٹڈیز نے اپنی حالیہ جاری کردہ سٹریٹجک سروے میں کہا ہے: '' جہاں تک امریکہ کا تعلق ہے وہ رضاکارانہ، کسی ہچکچاہٹ اورنہ کسی لڑائی کے بعد چائنہ کو اپنی عالمی چودھراہٹ میں حصہ دار بنانے پر تیار ہے''۔ تمام بڑی سامراجی طاقتوں نے پچھلے عشرے میں عالمی جنگ اور نیوکلر لڑائی کیلئے اپنی تیاریوں میں اضافہ کیا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے 2019 میں ایک ہزار ارب ڈالر کا جو ملٹری بجٹ منظور کیا تھا، ڈیموکریٹک پارٹی کی معاونت سے، وہ ایک جنگی بجٹ ہے۔ جرمنی، فرانس، برطانیہ اور تمام سامراجی ممالک اپنی مسلح افواج کو ذیادہ طاقتور بنا رہے ہیں۔ سامراج کاٹاگٹ جس میں چائنہ اور روس کی حکمران اشرافیہ بھی شامل ہے، کے مقاصد بدلتے رہتے ہیں کبھی یہ جنگ کی دھمکیاں دیتے ہیں اور کبھی مختلف معاہدے کرنے کیلئے بیتاب ہو جاتے ہیں۔

دوسری عالمی جنگ کے سدباب کیلئے جو ادارے بنائے گئے تھے وہ ناکارہ ہو چکے ہیں۔ سٹریٹجک سروے لکھتا ہے:

19۔ 2018 کے رجحانات ایک عالمگیر سماج کی تشکیل کے امکانات کی نفی کرتے ہیں۔ نہ تو ''طاقت کا توازن'' اور نہ ہی '' قوانین و ضوابط پر مبنی ایک عالمگیر نظم و نسق'' اب عالمی معاملات کو طے کرنے کے کوئی رہنما اصول رہ گئے ہیں۔ عالمی اداروں کو تو کھڈے لائن لگا دیا گیا ہے، اگرچہ سفارتی سطح پر رسمی مراسم جاری رہتے ہیں۔ لیکن اصل اہمیت متضاد قومی مفادات کی ہوتی ہے جن کو شاذ ہی مل بیٹھ کے سلجھایا جاتا ہے اور اکثر و بیشتر ان قومی مفادات کے اغراض ومقاصد بھی بدلتے رہتے ہیں۔

'' قانون و ضوابط پر مبنی عالمی نظم ونسق'' کا خاتمہ۔۔۔۔ اور ایک ایسے نظام کا قیام جس کا انحصارناقابل شکست امریکی سامراجی غلبے پر ہواس سے ایک ایسی منطق جنم لیتی ہے جو جنگ کی جانب لیجاتی ہے۔ جیسا کہ سٹریٹجک سروے متنبہ کرتا ہے: ''سیاست ہی قانون بناتی اور اسے قائم رکھتی ہے۔ اور جب ان قوانین سے مسائل کا حل نہیں نکلتا تو ان مسائل کو حل کیلئے دوبارہ سیاسی میدان میں پھینک دیا جا تا ہے''۔ یہاں آئی آئی ایس ایس جس ''میدان'' کا حوالہ دے رہی ہے اس سے مراد میدان جنگ ہے، یہاں کلاذوٹز کی مشہور ذمانہ تعریف ذہن میں آتی ہے جس کے مطابق جنگ سیاست ہی کی ایک صورت ہے۔

اور ایک جدید جنگ کے کیا بھیانک نتائج نکلتے ہیں؟ آئی آئی ایس ایس نے نیوکلیئر ہتھیاروں کے استعمال کے نئے منصوبوں کی طرف توجہ دلائی ہے۔ '' امریکہ اور روس اپنے نظریات بھی تبدیل کر رہے ہیں اور اپنے اسلحہ کے ذخیروں کو بھی کچھ اس انداز سے جدید بنا رہے ہیں کہ انکا استعمال آسان ہو سکے، جبکہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان کشمیر کا تنازعہ نیوکلیئر جنگ کے حقیقی خطرے کا باعث بن سکتا ہے''۔ پالیسی سازوں کے ہاں پائی جاتی دیوانگی کی سطح کو چھوتی یہ عاقبت نہ اندیشی جس کا اظہار اس بڑھتے ہوئے یقین سے ہوتا ہے کہ نیوکلیئر ہتھیاروں کا استعمال بھی ایک قابل عمل راستہ ہے۔ آئی آئی ایس ایس لکھتا ہے:

یہ بات تو طے ہے کہ محدود اور علاقائی نیو کلیئرجنگ کے بھی ساری دنیا کیلئے تباہ کن ماحولیاتی اثرات ہونگے، لیکن کیا کوئی صورت حال ایسی بھی ہو سکتی ہے جس میں ان تباہ کن اثرات کو کم ہلاکت آفریں سمجھا جاسکے، یقینا نہیں۔

تیسری عالمی جنگ برپا کرنے کی تحریک، جو بنی نوع انسان کو معدومیت کے خطرے سے دوچار کر دیگی، کو صرف انسانی ہمدردی کی اپیلوں سے روکا نہیں جا سکتا۔ جنگیں سرمایہ داری کی طوائف الملوکی اور قومی ریاست کے نظام کی متروکیت سے پیدا ہو تی ہیں۔ لہٰذا، جنگ کو صرف مزدور طبقے کی سوشلزم کی خاطرعالمی جدوجہد ہی روک سکتی ہے۔

جمہوریت کی ناکامی

طبقاتی کشمکش کی شدت میں اضافہ اور سامراجیت کی محرکات دنیا بھر میں جمہوری طرز حکمرانی کی ناکامی کی اصل وجوہات ہیں۔ جیساکہ لینن نے پہلی عالمی جنگ کے دوران لکھا تھا: '' سامراجیت مالیاتی سرمائے اور اجارہ داریوں کا عہد ہے، جو ہر جگہ غلبہ حاصل کرنے کی کوشش کا سبب ہے، آزادی کا نہیں۔ سیاسی نظام خواہ کچھ بھی ہو ان رجحانات کا نتیجہ ہر جگہ ردعمل اور عداوتوں میں اضافے کی صورت ہی نکلتا ہے''۔

حکمران اشرافیہ پچھلے ایک عشرے میں آمرانہ اور فسطائی انداز حکمرانی کی جانب رجوع کرتے ہوئے لینن کے اس تجزیئے کی اپنے طرز عمل سے توثیق کر رہی ہے۔ ایسی مجرمانہ حتیٰ کہ نفسیاتی امراض کا شکار شخصیات کا اقتدار میں آنا جیساکہ انڈیا میں مودی، فلپائن میں روڈریگو ڈیوٹریٹ، اسرائیل میں بن جامین نیتن یاہو، مصر میں عبدل فتح السیسی، برازیل میں جائر بولسونارو، امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ اور برطانیہ میں بورس جانسن یہ سب اس سارے سرمایہ داری نظام کو لاحق ایک وسیع تر بحران کی علامات کو ظاہر کرتے ہیں۔

تھرڈ رائیکس کے خاتمے کے پچھتّر سال بعد، فاشزم جرمنی میں واپس آرہا ہے۔ الٹرنیٹو فار ڈوئش لینڈ، جو ان نیؤنازیوں کی پناہ گاہ ہے، وہ پچھلے عشرے میں حزب مخالف کی بڑی جماعت بن کر اُبھری ہے۔ اسکو آگے لانے میں گرینڈ کولیشن گورنمنٹ، جانبدار میڈیا، اور ان رجعت پسند اساتذہ نے اہم کردار ادا کیا جنہوں نے بڑی چابکدستی سے ہٹلر کے جرائم ہر پردہ ڈال دیا تھا۔ یورپ میں بھی یہی عوامل بروئے کار ہیں، جہاں 1930 اور 1940 کی دہایوں کے فاشسٹ رہنماوں جیساکہ فرانس میں پیٹائن، اٹلی میں مسولینی، ہنگری میں ہورتھے اور سپین میں فرانکو وغیرہ کو بڑی محبت سے یاد کیا جارہا ہے۔

اسی عشرے میں یہودی مخالف تشدد کا بھی احیاء ہوا ہے اور اسلامو فوبیا اور نسل پرستی اور قومی شاونزم کی دیگر صورتوں کو بھی پروان چڑھایا گیا ہے۔ امریکہ میں میکسیکو کی سرحد پر ایسے حراستی مرکز قائم کیئے گئے ہیں جن میں وسطی اور جنوبی امریکہ سے آنیوالے پناہ گزینوں کو قید کیا جاتا ہے، اسی طرح یورپ اور شمالی افریقہ میں بھی یورپی یونین کی مہاجر مخالف پالیسیوں پر عمل کرنے کیلئے ایسے ہی اقدامات کیئے گئے ہیں۔

سرمایہ دار جماعتوں میں کوئی ترقی پسند سوچ نہیں پائی جاتی۔ ایک فاشسٹ صدر کے سامنے بھی، ڈیموکریٹک پارٹی جمہوری حقوق کی بنیادوں پر حزب مخالف کا کردار ادا کرنے سے قاصر ہے۔ محلاتی سازشوں کے طریقوں پر عمل کرتے ہوئے، ڈیموکریٹس صدر کا مواخذہ چاہتے ہیں صرف اس وجہ سے کہ اس نے ان کے خیال میں روس کے خلاف امریکہ کی مہم اور یوکرین جو امریکہ کی جنگ لڑ رہا ہے اس میں صدر نے امریکہ کے مفادات کو نقصان پہنچایا ہے۔

بر سر اقتدار سیاسی بورژوا کا جمہوری حقوق کے حوالے سے جو رویہ ہے اسکا اظہاروکی لیکس کے بانی جولین اسانج اور چھپے خطرات کی نشاندہی کرنے والی چیلسی میننگ کے ساتھ کیئے جانیوالے افسوسناک سلوک سے ہوتا ہے۔ ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز دونوں کی مدد سے، اسانج امریکہ حوالگی کا منتظرلندن کی بیلمارش جیل میں قید ہے۔ اسانج پر مزید الزامات کے حوالے سے قائم گرینڈ جیوری کے سامنے گواہی دینے سے انکار کے جرم میں میننگ بھی ایک سال سے قید ہے۔ اسانج اور میننگ پر مقدمہ چلانے کا مقصد آئینی تحفظ کی حامل صحافیانہ سرگرمی کو جرم قرار دینا ہے۔ یہ اختلاف رائے کو دبانے کے وسیع تر عمل کا حصہ ہے جس میں انٹرنیٹ پر سنسرشپ اور انڈیا میں مروتی سوزوکی کے محنت کشوں کو جیل میں ڈالنا اورطبقاتی جنگ کے دیگر قیدی شامل ہیں۔

جنگی تیاریاں، جس میں بے تحاشہ اخراجات اور قرضے شامل ہیں، نے جمہوریت کی ہوا نکال دی ہے۔ آخری تجزیے میں، جنگو کی قیمت مزدوروں کو ہی ادا کرنا پڑتی ہے۔ عشروں سے قربانیاں دیتی آئی عوام جو پہلے ہی غصے میں ہیں ان پر جب مزید بوجھ ڈالا جائیگا تو وہ اسکی مزاحمت کرینگے۔ اور حکمران اشرافیہ ہر قسم کی عوامی مزاحمت کو کچلنے کیلئے اپنی کوششوں میں شدت لائیگی۔

ماحول کی بربادی:

پچھلے عشرے میں ماحول کی مسلسل اور بڑی تیزی سے تباہی ہوئی ہے۔ سائنسدانوں نے بھی خطرناک وارنگ جاری کی ہیں کہ اگر عالمی سطح پر فوری اور دوررس کاروائیاں نہ کی گئیں، تو درجہ حرارت میں اضافے کے اثرات تباہ کن اور ناقابل تنسیخ ہونگے۔ سال کے اختتام پر جہنم کی جس دہکتی آگ نے آسٹریلیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا تھا وہ ماحول کی تبدیلی کا ایک خوفناک نتیجہ ہے۔

نومبر کے آخر میں 11000 سائنسدانوں نے ایک یاداشت پر دستخط کیئے جو بایؤسائنس کے ایک رسالے میں شائع ہوئی جس میں کہا گیا تھا کہ '' زمین کوماحولیاتی ایمرجنسی '' کا سامنا ہے۔ اس میں کہا گیا تھا کہ چالیس سال عالمی ماحولیات کے حوالے سے جو مزاکرات ہوتے رہے ہیں، '' کچھ استثنیات کو چھوڑکر، انکا کوئی اثر نہیں ہوا اور ہم اس بگڑتی ہوئی صورتحال کا سدباب کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

ماحولیاتی بحران اب سر پر آپہنچا ہے اور سائنسدانوں کے اندازوں کی نسبت اس میں بہت تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ اندازے سے کہیں ذیادہ شدید ہے، جس نے قدرتی ماحول اور انسان کے مقدر کو خطرات سے دو چار کر دیا ہے۔۔۔۔ بلخصوص پریشان کن ماحول کی وہ انتہائی تبدیلیاں اور قدرت کی جانب سے انکا ردعمل ہے جو زمین کو '' گرم خانہ '' بنا دینگے، اور اس آشوب پر انسان کا کوئی اختیار نہ ہوگا۔ یہ مسلسل ہونیوالی موسمیاتی تبدیلیاں حیوانات ونباتات کیلئے درکار ماحول، معاشرے اور معاشیات کو درہم برہم کردینگی، جس کے نتیجے میں زمین کے بڑے حصے ناقابل رہائش ہو جائنگے۔

سال کی شروعات میں، یونائیٹڈ نیشن کی انٹرا گورنمنٹل پینل آن کلائمیٹ نے رپورٹ دی تھی کہ 821 ملین لوگ، جو پہلے ہی بھوک کا شکار ہیں، انہیں قحط کا سامنا ہوگا کیونکہ گلوبل وارمنگ سے کئی زرعی علاقے متائثر ہونگے۔ لاکھوں کروڑوں لوگوں کو پینے کا صاف پانی نہیں ملے گا، اور اس سے کئی گنا زیادہ لوگ شدید موسمیاتی تبدیلیوں سے متائثر ہونگے جیساکہ سیلاب، قحط اور سمندری طوفان وغیرہ۔

موسمیاتی تبدیلی، اور ماحولیاتی بربادی کے دیگر کئی مظاہر، ایک ایسے سماجی اور معاشی نظام کی پیداوار ہیں جو عالمی پیداوار کو منطقی اور سائنسی انداز سے سر انجام دینے کا اہل نہیں، ایک ایسی پیداوار جس کی بنیاد سماجی ضرورت پر ہو۔۔۔۔ جس میں ایک صحت مند ماحول کی ضرورت بھی شامل ہے۔۔۔۔۔ نہ کہ شخصی دولت کا بے تحاشہ حصول۔

2008 کے کریش کے اثرات اور سرمایہ داری کا بحران؛

سماجی اور سیاسی صورتحال کی ابتری کا بنیادی سبب کینسر کی طرح تیزی سے بڑھتی ہوئی سماجی نابرابری ہے۔۔۔۔۔۔۔ اور یہ ناگزیر نتیجہ تھا ان اقدامات کا جوکہ 2008 کے مالیاتی اور معاشی بحران کے بعد حکمران اشرافیہ نے اٹھائے۔

اس مالیاتی کریش کے بعد، جو 2010 کے عشرے کی شروعات سے کچھ قبل ہوا، دنیا بھرمیں حکومتوں اور مرکزی بینکوں نے اپنی تجوریاں کھول دیں۔ امریکہ میں بش اور خاص کر ابامہ نے بینکوں کو 700 بلین ڈالر کی امداد دی، اور پھر کئی ہزار ارب ڈالرمزید یوں دیئے گئے کہ نئے نوٹ چھاپ کرمالیاتی اداروں کے بیوقعت اثاثے مرکزی بینک نے خرید لیئے۔

ایک ہی رات میں مرکزی امریکی حکومت کا خسارہ دگنا ہو گیا۔ مرکزی بینک کے اثاثے جو کہ نومبر 2008 میں 2 ٹریلین تھے اکتوبر 2014 میں 4.5 ٹریلین ہوگئے، اور یہ آج بھی 4.5 ٹریلین سے زیادہ ہے۔ 2019 کے آخر میں شروع کیا گیا ہر ماہ 60 بلین ڈالر کے اثاثے خریدنے کا پروگرام آج بھی جاری ہے، اور اس سال کے وسط تک بیلنس شیٹ کریش کے بعد کے سب سے ذیادہ اعداوشمار کو ظاہر کریگی۔

ٹرمپ نے بھی اس پالیسی کو جاری رکھا ہوا ہے، اس نے کارپوریٹ ٹیکسوں میں بہت ذیادہ کمی ہے اور وہ شرح سود میں مزید کمی کرنا چاہتا ہے۔ نیو یارک ٹائمز نے اپنے یکم جنوری کے ایک کالم جس کا عنوان تھا (سرمایہ کاری کی ایک سادہ حکمت عملی جو 2019 میں کامیاب رہی) میں لکھا سرمایہ کاری کے تمام اثاثوں کی قیمت میں پچھلے ایک سال میں بہت ذیادہ اضافہ ہوا ہے۔ نیسڈیک کی قیمت میں 35 فیصد کا اضافہ ہوا، ایس اینڈ پی 500 میں 29 فیصد کا، کموڈیٹیز میں 16 فیصد کا، امریکی کارپوریٹ بانڈز میں 15 فیصد کا اور یو ایس ٹریژری میں 7 فیصد کا۔ بہت بڑے پیمانے پر سب کو تقریباً یکساں فائدہ ہوا جس کی مثال پوری دہائی میں نہیں ملتی۔ اسکی وجہ کیا تھی؟ مرکزی بینک فیڈرل ریزرو کی سر کو چکرا دینے والی پالیسیاں جن میں پہلے شرح سود کو بڑھایا گیا پھر اچانک ان میں کمی گئی اور فائنانشل مارکیٹ میں تازہ پیسہ پھینکا گیا۔

تمام بڑی سرمایہ دار قوتیں ایسے ہی اقدامات اٹھا رہی ہیں۔ بڑے بڑے قرضے دینا اور نوٹ چھاپنا۔۔۔۔۔اور آخری تجزیئے میں اسی کی بدولت بحران شدید ہو جاتا ہے۔ خود کو بچانے کی کوشش میں، حکمران اشرافیہ نے طفیلیت کو رواج دیا ہے اور سماجی نابرابری کو اس درجے تک پہنچا دیا ہے جسکی مثال جدید تاریخ میں نہیں ملتی۔

مارکیٹ میں ڈالے جانے والے بے حساب پیسے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے، مالیاتی اشرافیہ کی دولت میں بے تحاشہ اضافہ ہوا۔ دنیا کے 500 امیرترین افراد (جوکہ عالمی آبادی کا 0.000006 فیصد ہے) کے پاس 5.9 ٹرلین ڈالر کے قریب دولت ہے، جس میں صرف پچھلے سال میں ایک ٹرلین ڈالر سے زائد کا اضافہ ہوا۔ یہ اضافہ ہی دنیا کے 15 ممالک کو چھوڑ کر باقی ساری دنیا کی مجموعی قومی آمدنی سے زیادہ ہے۔ امریکہ میں امیر ترین 400 افراد کے پاس نچلے 64 فیصد سے زیادہ دولت ہے، اور آبادی کے بالائی 0.1 فیصد کے پاس 1929 کے گریٹ ڈپریشن کے بعد آج سب سے زیادہ مالی وسائل ہیں۔

دنیا بھر کے مزدور اور نوجوان آج جن سماجی مصائب سے دوچار ہیں یہ دولت کو مالیاتی اور کارپوریٹ اشرافیہ کے پاس منتقل کرنے والی پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ امریکہ میں مزدوروں کی طبعی عمر میں اضافے کے بجائے کمی، دنیا بھر میں مزدوروں اور بالخصوص نوجوانوں کی بیروزگاری، یونان اور دیگر کئی ممالک پر عائد کی گئی اخراجات میں کمی اور اجرتوں میں کٹوتیوں کی پالیسیوں کے تباہ کن اثرات، یہ تمام تباہ کاریاں حکمران اشرافیہ کی اختیار کردہ پالیسیوں کا نتیجہ ہیں۔

عالمی طبقاتی جدوجہد اور مزدور طبقے کی بڑھتی ہوئی تعداد؛

عالمی بحران نے سوشلسٹ انقلاب کیلئے درکار معروضی حالات پیدا کر دئیے ہیں۔ 2019 میں ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لینی والی ہڑتالیں اور احتجاجی مظاہرے آنیوالی سماجی تبدیلی کو ظاہر کرتے ہیں: جو میکسیکو، پورٹوریکو، ایکواڈور، کولمبیا، چلی، فرانس، اسپین، الجیریا، برطانیہ، لیبنان، ایران، عراق، سوڈان، کینیا، ساوتھ افریقہ، انڈیا اور ہانگ کانگ میں ہوئے۔ امریکہ، جہاں کا سیاسی ڈھانچہ طبقاتی جدوجہد کو دبانے کیلئے بنایا گیا ہے، وہاں چالیس سال میں آٹو ورکرز کی پہلی قومی ہڑتال ہوئی۔

طبقاتی جدوجہد کی سب سے نمایاں اورانقلابی خصوصیت اسکا بین الاقوامی کردار ہے، جسکی جڑیں جدید سرمایہ داری کے عالمی کردار میں پیوستہ ہیں۔ چونکہ مزدور طبقے کی جدوجہد نوجوان نسل کی تحریک ہے اس لئیے یہی تحریک مستقبل کا نقشہ بنائے گی۔

دنیا کی آدھی آبادی اس وقت 30 سے سال کم عمر افراد پر مشتمل ہے اور اس میں 65 فیصد سے ذائد آبادی دنیا کے تیزی سے ترقی کرتے علاقوں میں رہائش پزیر ہے جن میں سب سہارن افریقہ، مشرق وسطیٰ، جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیاء شامل ہیں۔ انڈیا میں ہر ماہ ایک ملین افراد 18 سال کی عمر کو پہنچ جاتے ہیں۔ ایک اندازے کیمطابق مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں اگلے پانچ سال میں 27 ملین افراد کام کرنے کے اہل ہونگے۔

1980 سے 2010 کے درمیان، عالمی صنعتی ترقی کی بدولت مزدروں کی تعداد میں 1.2بلین افراد کا اضافہ ہوا، یہ تعداد پچھلے ایک عشرے کئی ملین مزید بڑھ گئی۔ ان 1.2بلین میں، 900 ملین ترقی پزیر دنیا میں مزدور طبقے کا حصہ بنے۔ عالمی سطح پر وہ محنت کش جو کسان کہلاتے ہیں انکی تعداد، جو 1991 میں 44 فیصد تھی کم ہو کر 2018 میں 28 فیصد ہوگئی۔ آنیوالے عشروں میں سب سہارن افریقہ میں تقریباً ایک ارب افراد مزدور طبقے کا حصہ بن جائینگے۔ صرف چائینہ میں، 121 ملین افراد 2000 سے 2010 کے درمیان '' کھیت سے کارخانے '' منتقل ہوئے، جن کی تعداد میں پچھلے ایک عشرے میں کئی ملین افراد کا اضافہ ہوا۔

یہ صرف ایشیاء اور افریقہ میں مزدوروں کی تعداد میں اضافہ نہیں ہوا بلکہ ترقی یافتہ ممالک میں آبادی کی بڑی پرت جو پہلے مڈل کلاس کہلاتی تھی مزدور طبقے میں شامل ہوچکی ہے اور اسی طرح سے مہاجرین کی بڑی تعداد لاطینی امریکہ سے یونائٹڈ سٹیٹ اور شمالی افریقہ اورمشرق وسطیٰ سے یورپ منتقل ہوئی ہے جو ورک فورس کا حصہ بن رہی ہے۔

2010 سے 2019 کے درمیان دنیا کی شہری آبادی میں ایک ارب افراد کا اضافہ ہوا، جس کی وجہ سے ایک دوسرے جڑے ہوئے کئی بڑے بڑے شہر وجود میں آئے، جو نہ صرف اقتصادی پیداوار کا مرکز ہیں بلکہ سماجی سطح پرایک دھماکہ خیز مواد بھی ہیں، جہاں سماجی اور معاشی نابرابری اور ناانصافی روزمرہ کی ایک بالکل واضح حقیقت ہے۔

اور یہ مزدور کچھ اس طرح ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں جس کی مثال دنیا کی تاریخ پہلے نہیں ملتی۔ سائنس، ٹیکنالوجی اور مواصلات کے شعبوں میں جو حیرت انگیز ترقی ہوئی ہے، اور سب سے بڑھ کر جس طرح انٹریٹ اور موبائل فون کا استعال عام ہوا ہے، اسکی وجہ سے لوگ اب اپنے آپ کو بورژوا میڈیا کی جعلی خبروں سے بچا سکتے ہیں، جو ہمیشہ ریاست اورخفیہ اداروں کے ترجمان کا کردار ادا کرتا ہے۔ اب دنیا کی آدھی سے زیادہ آبادی یعنی 4.4بلین افراد کو انٹرنیٹ تک رسائی حاصل ہے، اب ایک آدمی اوسطً دو گھنٹے روزانہ سوشل میڈیا پر صرف کرتا ہے، اور اس مقصد کیلئے اکثر لوگ موبائل فون استعمال کرتے ہیں۔

مزدور اور نوجوان اب اپنی کاروائیوں اور احتجاج کو عالمی سطح پر مربوط و منظم کر سکتے ہیں، جیسا کہ موسمیاتی تبدیلی کے خلاف عالمی سطح پر مہم، ''یلوویسٹ '' کا عالمی سطح پر نابرابری اور ناانصافی کے خلاف جدوجہد کی علامت کے طور پر سامنے آنا، اور میکسیکو اور امریکہ کے مزدوروں کے درمیان یکجہتی کا اظہار یہ سب اسکا واضح ثبوت ہے۔

یہ معروضی تبدیلیاں نا برابری کے بنیادی سوال پر سماجی شعور میں بھی بڑی تبدیلیاں لا رہی ہیں۔ 2019 کی یونائیٹڈ نیشن کی ہیؤمن ڈیولپمنٹ رپورٹ یہ بتاتی ہے کہ تقریباً تمام ممالک میں، ذیادہ سماجی انصاف اور معاشی برابری و مساوات کے طلبگار افراد کی تعداد میں 2000 اور 2010 کے درمیان میں 50 فیصد تک کا اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ میں متنبہ کیا گیا ہے: '' جائزوں سے یہ پتہ چلتا ہے کہ سماجی نابرابری اور نا انصافی کا بڑھتا ہوا احساس، ذیادہ مساوات کی بڑھتی ہوئی خواہش، اور بہتر حالات زندگی کے داخلی تصورات میں عدم مساوات کا بڑھتا ہوا احساس۔ ایسے تمام رجحانات کو ”خطرے کی سرخ جھنڈیاں سمجھنا چاہیے“۔

انقلابی قیادت کا کردار۔۔۔۔۔

مزدوروں کی تعداد میں اضافہ اور عالمی سطح پر طبقاتی جدوجہد کا فروغ انقلاب کی معروضی بنیادیں ہیں۔ تاہم، مزدوروں کی صرف اپنی جدوجہد اور سوشلزم کیلئے ان کی جبلی کوشش کافی نہیں ہے۔ طبقاتی جدوجہد کو سوشلزم کی شعوری تحریک میں بدلنے کیلئے سیاسی قیادت کی ضرورت ہوتی ہے۔

پچھلے ایک عشرے نے سیاسی تجربات کی وہ قیمتی دولت دی ہے جو اس حقیقت کو ثابت کرتی ہے کہ انقلابی قیادت کی غیر موجودگی کتنی بڑی محرومی ہوتی ہے۔ اس عشرے کا آغاز مصری نوجوانوں اور مزدوروں کی امریکی حمایت یافتہ صدر حسنی مبارک کے خلاف ایک عظیم الشان جدوجہد کی صورت میں ایک انقلاب سے ہوا تھا۔ انقلابی قیادت کی عدم موجودگی میں، اور پیٹی بورژوا تنظیموں نے جو خلفشار پیدا کیا تھا، اس نے لوگوں کو پیٹی بورژوا کے مختلف دھڑوں اور حکمران طبقے کی اطاعت پر لگا دیا تھا، جسکے نتیجے میں قاہرہ کے قصاب السیسی کی فوجی آمریت دوبارہ قائم ہوگئی۔ مارکسزم کے تمام متبادل، جو مالدار متوسط طبقے نے بنائے تھے، وہ اپنا اعتبار کھو چکے ہیں۔ امریکہ میں '' غیر سیاسی '' اور نیؤ انارکسٹ وال سٹریٹ پر قبضہ کرنے کی تحریک جسے مڈل کلاس تحریک کہا گیا تھا اور جس کے متعلق یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ یہ '' 99 فیصد لوگوں کی تحریک '' ہے نے حقیقت میں مزدور طبقے کے مفادات کو بالائی 10 فیصد کے تابع کرنے کے کوشش کی۔

یورپ میں '' بائیں بازو کی مقبولیت پسندی '' کی نئی صورتوں کو متعارف کرایا گیا۔ جن میں یونان میں سریزہ اور اسپین میں پوڈیموس شامل ہیں۔ سریزہ 2015 میں برسراقتدار آئی اور چار سال تک بینکوں کی ھدایات پر عمل کرتی رہی۔ پوڈیمس اسپینش سوشلسٹ پارٹی کے ساتھ اتحاد کی صؤرت اب اقتدار میں ہے، جو اب دائیں بازو کی اسٹریٹی کے پروگرام پر عمل پیرا ہے۔ ''فائیواسٹار تحریک '' جسے اسٹیبلشمنٹ کے خلاف بغاوت کی صورت پیش کیا گیا تھا، وہ بالآخر اطالوی نیؤفاشسٹ کے ساتھ سیاسی اتحاد میں شامل ہوگئی۔ کوربنزم جس نے لیبر پارٹی کے احیاء کی صورت ایک سرمایہ داری مخالف تحریک کا تائثر دیا تھا، وہ بھی آخرمیں سیاسی مصلحت پسندی اور حکمران طبقے کے سامنے سجدہ ریز ہوگیا۔ اگر برنی سینڈرز کسی طرح وائیٹ ہاؤس پہنچ گیا تو اسکی حکومت بھی یہ ہی کچھ کرے گی۔

لاطینی امریکہ میں، '' بائیں بازو '' کا بورژوا نیشنلزم جو کہ '' پنک ٹائیڈ '' کا حصہ تھا ---- برازیل میں لوللاازم، وینزویلا میں شاویز کا '' بولیوارین ریولیشن '' اور بولیویا میں ایوومورالس، عالمی سرمایہ داری نے ان سب کو تباہ کر دیا ہے۔ ان کی اسٹریٹی اور کارپوریٹ کے حق میں پالیسیوں نے تیزی سے انکے دائیں بازو کی طرف جانے کی کی راہ ہموار کی، جس میں برازیل میں بولسونارا کا اقتدار میں آنا اور 2019 میں مورالیس کے خلاف ملٹری کی بغاوت جسے امریکہ کی حمایت حاصل تھی۔

ٹریڈ یونینز، جو کافی عرصے سے طبقاتی جدوجہد کو دبانے کا کام کرتی آئی ہیں، اب ریاست اور کارپوریشن کے ایجنٹس کے طور پر انکی حقیقت سب کو معلوم ہوچکی ہے۔ امریکہ میں، یواے ڈبلیو کے ایسے کرپٹ اہلکاروں کے خلاف آٹومزدوروں کی جدوجہد جاری ہے جنہیں مختلف کمپنیوں سے رشوت لینے اورمزدوروں کے پیسے چرانے کے الزامات پر تحقیقات اور مقدمات کا سامنا ہے۔ یواے ڈبلیو توعالمی سطح پر جاری اس سارے عمل کا صرف ایک واضح اظہار ہے۔

مزدوروں اور عالمی سیاسی رجحانات کے درمیان ایک وسیع سیاسی اور سماجی خلیج واقع ہو چکی ہے، جعلی لیفٹ، جوایسے بالائی متوسط طبقے کے کچھ حصوں پر مشتمل ہے جو صنفی، جنسی اورنسلی بنیادوں پر سیاست کرتے ہیں۔ بالائی متوسط طبقے کی سیاست کا مقصد اوپر کے 1 فیصد افراد کے پاس موجود دولت تک رسائی اور اسکے تقسیم نو کی کوشش کرنا ہے۔ اور یہ افراد ایسے نجات دہندہ ہونے کی امید لگاتے ہیں، جو عام طور پر کسی '' مخصوص تشخص ' کی بنیاد پر طاقت اور اقتدار حاصل کرتے ہیں، جبکہ عوام کی اکثریت کے سماجی مفادات کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔

فورتھ انٹرنیشنل کی انٹرنیشنل کمیٹی سے مطلوب اقدامات؛

بورژوا پریس کے اکثر تبصروں میں، پچھلے ایک سال کے احتجاجوں اور مظاہروں کو '' بغیر لیڈر '' کے کہا جاتاہے۔ لیکن یہ تو عوام کے شعور کے ارتقا اور ترقی کا ابتدائی مرحلہ ہے۔ عوام، جنہیں جدوجہد کے ذریعے تجربات حاصل ہو رہے ہیں، اور وہ اپنے سیاسی اور سماجی رجحانات اورخیالات کے اعتبار سے ایک بڑی تبدیلی کے عمل سے گزر رہے ہیں۔ اس گہری اور بڑی تبدیلی کے سیاق واسباق میں ہی سوشلزم کا احساس و شعور بیدار ہو گا۔

سماجی تبدیلیوں کا یہ نیا عشرہ فورتھ انٹرنیشنل کیلئے ایک نئے مرحلے کا آغاز ہو گا۔ انقلابی تحریک پر عمل فیصلہ کن ہوگا۔ امریکہ کی سوشلسٹ ایکوئیلیٹی پارٹی کی2018 کی نیشنل کانگریس کی قرارداد میں اس بات کو یوں کہا گیا۔

معروضی صورتحال کا ایسا تجزیہ اور سیاسی امکانات کا ایسا حقیقت پسندانہ جائزہ جو انقلابی پارٹی کے اثرات کا احاطہ نہ کرتا ہو مارکسزم سے اسکا کوئی تعلق نہیں۔ مارکسسسٹ انقلابی پارٹی صرف واقعات پر تبصرہ نہیں کرتی، بلکہ وہ جن واقعات کا تجزیہ کرتی ہے ان میں حصہ بھی لیتی اور مزدوروں کے اقتدار اور سوشلزم کی جدوجہد میں قائدانہ کردار ادا کرتے ہوئے دنیا کو بدلنے کی کوشش کرتی ہے۔(”طبقاتی جدوجہد کی واپسی اور سوشلسٹ ایکویلیٹی پارٹی کا فریضہ“)

آئی سی ایف آئی کے عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے سیاسی اثرات کی کئی شواہد ہیں۔ 2019 کے دوران، انٹرنیٹ سنسرشپ کی مہم کے باوجود ڈبلیو ایس ڈبلیو ایس کے قارئین کی تعداد میں بہت ذیادہ اضافہ ہوا۔ قارئین کی تعداد بڑھ کر 20 ملین ہوگئی جو اس سے قبل 2018 میں 14 ملین تھی (40 فیصد سے ذائد کا اضافہ ہوا)۔ قارئین کی تعداد میں سب سے ذیادہ اضافہ، جب ہر ماہ دو ملین سے ذیادہ تعداد میں لوگ اس ویب سائیٹ کو پڑھ رہے تھے ستمبر اور اکتوبر کے مہینوں میں ہوا جب آٹو ورکرز کی جدوجہد جاری تھی اور جنرل موٹرز میں ہڑتالیں ہو رہی تھیں۔

یہ عوامل اہم پیش رفت کو ظاہر کرتے ہیں، لیکن ہمیں یہاں مطمئن نہیں ہوجانا۔ آئی سی ایف آئی کے اثرات میں اضافہ مستقبل میں زیادہ اہم کام کرنے اور ذمہ داریاں سرانجام دینے کی ضرورت کو زیادہ شدت سے ظاہر کرتا ہے۔

ہماری توجہ اب مزدور طبقے کی جانب ہونی چاہیے، آمریت، جنگ اور نابرابری کے خلاف مزدوروں اور نوجوانوں کی ہر مزاحمت کا بھرپور ساتھ دینا ہوگا۔ انتھک محنت کرنا ہوگی سیاسی شعور میں اضافے کیلئے، سکولوں اور کارخانوں میں تربیت یافتہ کارکن پیدا کرنے کیلئے، لوگوں کو تاریخ کے متعلق بھی بتانا ہوگا اور انہیں سرمایہ داری کی اصلیت سمجھانا ہوگی۔ سوشلزم کی خاطر لڑنے والوں کی کوئی کمی نہ ہوگی۔ لیکن اس ارادے کو ایک ایسی حکمت عملی کی ضرورت ہوگی جو مزدور طبقے کی جدوجہد کو سوشلزم کی عالمگیرتحریک سے جوڑ دے۔

لیؤن ٹراٹسکی کے قتل کو آج 80 سال ہوگئے۔۔۔۔۔ جو لینن کے ساتھ روسی انقلاب کا شریک رہنما اور فورتھ انٹرنیشنل کا بانی تھا۔۔۔۔۔ جسے ایک سٹالنسٹ ایجنٹ نے 20 آگست 1940 کو قتل کردیا تھا۔ اپنی زندگی کے آخری سالوں میں ٹراٹسکی نے انقلابی قیادت کی اہمیت پر بہت زور دیا۔ '' انسانی تاریخ کا سب سے بڑا بحران دراصل سمٹ کر انقلابی قیادت کے فقدان کا بحران بن جاتا ہے '' اس نے فورتھ انٹرنیشنل کی اساسی دستاویز میں لکھا۔

اب یہ آئی سی ایف آئی کو عالمی سطح پر پھیلانے کا سوال ہے، جن ممالک میں سوشلسٹ ایکوئیلیٹی پارٹیز موجود ہیں وہاں انہیں وسعت دینا، اور جن ممالک میں آئی سی ایف آئی کی باقائدہ موجودگی نہیں ہے وہاں پارٹی کی شاخیں قائم کرنا۔ وہ عظیم تاریخی بنیادیں جن پر یہ تحریک وجود رکھتی ہے، جو عالمی مزدور طبقے کے تجربات کا شعوروآگہی سے بھرپور ذخیرہ ہے، مزدور طبقے کی جدوجہد کو منظم کرنے اور سوشلزم کی راہ ہموار کرنے کیلئے اسے برؤے کار لایا جائے۔ آج جب ہم اس عشرے کا آغاز کر رہے ہیں، آئی سی ایف آئی دنیا کو وہ الفاظ یاد دلاتی ہے جن پر ٹراٹسکی نے فورتھ انٹرنیشنل کی اساسی دستاویز کا اختتام کیا تھا:

مزدورو۔۔۔۔ مرد وخواتین۔۔۔۔۔ خواہ کسی بھی ملک میں ہو، خود کو فورتھ انٹرنیشنل کے جھنڈے تلے متحد و مجتمع کرلو۔ کیونکہ یہ تمہاری بہت جلد آنیوالی فتح کا جھنڈا ہے۔

ڈیوڈنارتھ اور جوزف کیشور